انوارالعلوم (جلد 10) — Page 164
۱۶۴ فرمایا یہ قانون قدرت ہے کہ معرفتِ کامل گناہ سوز ہوتی ہے- مثلاً جسے یقین کامل ہو کہ فلاں چیز زہر ہے، وہ کبھی اسے نہیں کھائے گا- پس جب یہ مانتے ہو کہ نبی کو معرفت کامل حاصل ہوتی ہے تو پھر یہ کہنا کہ نبی گناہ کا مرتکب ہو سکتا ہے، یہ دونوں باتیں متضاد ہیں- پس یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ نبی سے کوئی گناہ سرزدہو- (ب) یہ کہ نبی کے بھیجنے کی ضرورت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ ہو، ورنہ نبی کے آنے کی ضرورت ہی کیا ہے- کیا خدا تعالیٰ لکھی لکھائی کتاب نہیں بھیج سکتا تھا- پس نبی آتا ہی اس لئے ہے کہ خدا کے کلام پر عمل کر کے لوگوں کو دکھائے اور ان کے لئے کامل نمونہ بنے پس اگر نبی بھی گناہ کر سکتا ہے تو پھر وہ نمونہ کیا ہوگا- نبی کی تو غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ جو لفظوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ہو وہ اپنے عمل سے لوگوں کو سکھائے- (۲) دوسری غلطی جس میں لوگ مبتلا تھے یہ تھی کہ وہ خیال کرتے تھے کہ نبی سے اجتہادی غلطی نہیں ہو سکتی- عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو لوگ کہتے تھے کہ نبی گناہگار ہو سکتا ہے اور دوسری طرف یہ کہتے کہ نبی سے اجتہادی غلطی نہیں ہو سکتی- حضرت مسیح موعود علیہالصلوۃ والسلام نے اس مسئلہ کو علمی مسئلہ بنا دیا اور بتایا کہ-: (الف) نبی سے اجتہادی غلطی نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری ہے تا کہ معلوم ہو کہ نبی پر جو کلام نازل ہوا وہ اس کا نہیں بلکہ اور ہستی نے نازل کیا ہے- کیونکہ اپنی ذات کے سمجھنے میں کسی کو غلطی نہیں لگتی- کوئی یہ نہیں کہتا کہ فلاں بات جب میں نے کہی تھی تو اس کا میں نے اور مطلب سمجھا تھا اور اب اور سمجھتا ہوں- اس غلطی کا لگنا ثبوت ہوتا ہے اس امر کا کہ وہ بات اس کی بنائی ہوئی نہیں- پس آپ نے فرمایا کہ نبی سے اجتہادی غلطی سرزد ہونا ضروری ہے تا کہ اس کی سچائی کا ایک ثبوت بنے- (ب) دوسرے نہ صرف نبی کو اجتہادی غلطی لگتی ہے بلکہ خدا تعالیٰ نبی سے اجتہادی غلطی بعض دفعہ خود کراتا ہے- تا کہ اول نبی کا اصطفاء کرے یعنی اس کا درجہ اور بلند کرے- اس کی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خواب ہے جب ان کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ وہ بیٹے کو قتل کر دیں- کیونکہ اگر یہ مطلب ہوتا تو جب وہ قتل کرنے لگے تھے انہیں منع نہ کیا جاتا- لیکن حضرت ابراہیمؑ کو خواب ایسے رنگ میں دکھائی گئی کہ ابراہیمؑ کا ایمان لوگوں پر ظاہر ہو جائے- اور جب وہ اس کے ظاہری معنوں کی