انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 139

۱۳۹ (ج)نفسانی الہام- یعنی ایسے الہام یا خواب جو دماغی کیفیات کے نتیجے میں نظر آئیں- یہ الہام یا خواب بھی کبھی سچے ہوتے ہیں- جس طرح انسانی دماغ جاگتے ہوئے کوئی بات قیاس کر کے آئندہ کے متعلق نکال لیتا ہے اور وہ سچی ہو جاتی ہے- اسی طرح کبھی سوتے ہوئے بھی ایسے اندازہ لگا کر پیش کر دیتا ہے اور وہ کبھی سچے ہو جاتے ہیں- اور ان کے سچے ہو جانے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں- ایسی خوابیں کئی قسم کی ہوتی ہیں-(۱)امور طبعیہ سے تعلق رکھنے والی- مثلاً بیماریوں کے متعلق- بیماریاں یکدم نہیں پیدا ہوتیں- بلکہ ان کے ظاہر ہونے سے کئی گھنٹے یا کئی دن یا کئی ہفتے پہلے جسم میں تغیرات شروع ہو جاتے ہیں- ایسے تغیرات کو بعض دفعہ انسانی دماغ محسوس کر کے انسان کی آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے اور وہ بات پوری بھی ہو جاتی ہے کیونکہ وہ ایک طبعی اندازہ ہوتا ہے- بیماریوں کے ایسے تغیرات مختلف عرصوں میں واقع ہوتے ہیں- مثلاً ہلکے کتے کا زہر بارہ دن سے دو ماہ تک کہتے ہیں تکمیل تک پہنچتا ہے- پس ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کو ہلکے کتے نے کاٹا ہو- اور زہر کے اپنے اثر کو مکمل کرنے کے دوران میں اس کا دماغ اس کی کیفیت کو محسوس کر کے ایک نظارہ کی شکل میں اسے دکھا دے- پس یہ خواب یا الہام سچا ہوگا- مگر نفس انسانی کا ایک فعل ہوگا نہ کہ آسمانی- (۲)دوسری قسم اس قسم کی وحی کی عقلی وحی ہوتی ہے- جیسے کوئی شخص کسی امر کو سوچتے سوچتے سو جائے اور اس کا دماغ اس وقت بھی اس کے متعلق غور کرتا رہے )دماغ کا ایک حصہ انسان کی نیند کے وقت بھی کام کرتا رہتا ہے( اور جب وہ کسی نتیجہ پر پہنچے تو ایک نظارہ خواب کی حالت میں نظر آ جائے جس میں وہ نتائج جو دماغ کے حصہ متاثرہ نے غور کرنے کے بعد نکالے تھے دکھا دیئے گئے ہوں- بسا اوقات یہ نتائج دوسرے عقلی نتائج کی طرح صحیح ہوں گے- لیکن باوجود ان کے صحیح ہونے کے اس خواب کو آسمانی خواب نہیں کہیں گے بلکہ نفسانی خواب کہیں گے- کیونکہ اس کا منبع انسانی دماغ ہے نہ کہ خدا تعالیٰ کا کوئی خاص امر- اوپر کی دونوں قسمیں ایک رنگ میں آسمانی بھی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ قوانین کے ماتحت انسان کی ہدایت اور اس کی راہنمائی کا موجب ہوتی ہیں مگر تقدیر عام کے ماتحت- ان کا ظہور کسی خاص حکم کے ذریعہ سے نہیں ہوتا- مگر ایک قسم نفسانی خواہشات کی اور بھی ہے جو خالص نفسانی ہوتی ہے مگر پھر بھی کبھی سچی ہو جاتی ہے اور وہ پراگندہ خواب ہے- (۳)یہ قسم دماغ کی پراگندگی کے نتیجہ میں آتی ہے- مگر چونکہ مختلف اندازے لگانے