انوارالعلوم (جلد 10) — Page 88
۸۸ اس قسم کی باتیں کرتے ہو۔مذہبی لحاظ سے نہ سہی مگر تم جانتے ہو کہ میرا خاندان اس قصبہ کاواحد مالک ہے میں تمہاری نیت کو نیک ہی سمجھ لوں اگر تم کسی گاؤں جا کر وہاں کے واحد مالک کے متعلق نہیں بلکہ دس گھماؤں زمین رکھنے والے زمیندار پر ہی کوئی اتہام بلکہ اس کے متعلق کوئی سچا واقعہ ہی بیان کرو۔یا اگر تم پنڈورے میں جا کر کسی چوہرے کے متعلق بھی الزام لگانے کی جرأت نہیں کر سکتے اور ادہر ہمارے متعلق گندی اور ناپاک باتیں کرتے ہو۔اس تمہارے اپنے فعل میں یہ اعتراف موجود ہے کہ میں نے تمہاری اس کمینگی کا بدلہ نہیں لینا اور اسی وجہ سے تم اس قسم کی جرأت کر رہے ہو۔ورنہ یاتو تم کہہ دو کہ اس گاؤں میں کوئی اور ایسی شخص نہیں جس پر الزام لگ سکے۔یا اگر یہ تسلیم کرتے ہو کہ الزام لگ سکتا ہے تو کیوں کسی اور کے متعلق اس طرح جرأت نہیں کرتے ہو۔پس میرے خلاف جو باتیں تم بناتے ہو اس کی وجہ تمہاری سچائی نہیں بلکہ میری شرافت ہے۔تم جانتے ہو کہ اگر کسی اور کے متعلق کوئی بات ہم کہیں گے تو وہ ہر طرح اس کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جائے گا۔مگر میری طرف سے تم کو اس قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے تمہارا یہ طریق ہی میری شرافت کا اعتراف اور اپنی کمینگی کا اظہار ہے۔اس وقت میرے سامنے انہوں نے کہا جو کچھ ہمارے متعلق کہا جاتا ہے یہ غلط ہے اور لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔پھر ایک نے اپنا خواب سنایا کہ مجھے بلایا گیا ہے آپ سے دعا کرائیں۔مگر مجھے معلوم ہوا لوگوں سے جا کر انہوں نے کہا ہماری تسلی کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر نہیں ہوئی اور اب عدالت میں جا کر یہ لکھایا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ باز آجاؤ ورنہ تمہیں سیدھا کر دیں گے۔غرض ان لوگوں اور میرے سامنے ایسی باتیں کرنے سے انکار کر گئے تھے شرارت بڑھانیشروع کی۔ان کی شرارتوں کے متعلق جن لوگوں نے مجھ سے ذکر کیامیں نے ان کی باتوں پر اعتبار نہ کیا لیکن جب شملہ میں ذکر ہوا تو مرزا عبدالحق صاحب پلیڈر نے جو مستری فضل کریم کے داماد ہیں بتلایا کہ عبدالکریم مستری فضل کریم کا بڑا لڑکا اس قسم کی باتیں کرتا پھرتا ہے۔میں نے انہیں کہا آپ کو غلطی لگی ہو گی۔انہوں نے کہا نہیں اس نے خود مجھ سے باتیں کی ہیں۔تب ان لوگوں کی شرارت کا پورا علم ہوا۔انہی ایام میں جب میں شملہ کیا تو ایک شخص نے ان کی بعض باتوں کے متعلق خط لکھا چونکہ ان دنوں یونٹی کانفرنس کی وجہ سے مجھے بہت کام تھا اس لئے میں نے اس کے جواب کو ملتوی کیا۔مگر اس سے چڑ کر اس شخص نے ان باتوں میں زیادہ حصہ لینا شروع کر دیا۔آخر نوبت یہاں تک پہنچی