انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 69

۶۹ تھے۔انہوں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے پاؤں پر ایک سرخ نشان پڑاہے جو گیلا تھا۔انہوں نے اپنی ٹوپی دیکھی تو اس پر بھی اسی قسم کا نشان تھا۔اس پر انہوں نے خیال کیا کہ شاید چھت سے چھپکلی کی دُم کٹنے سے خون گرا ہو مگر انہوں نے جب چھت کی طرف دیکھا تو وہ اس قسم کی تھی کہ وہاں چھپکلی کا گمان نہیں ہو سکتا تھا اس پر انہیں بہت حیرت ہوئی اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام بیدار ہوئے تو آپ نے پوچھا کیا کوئی خاص بات ہوئی ہے۔حضرت صاحب نے اس کے متعلق کچھ نہ فرمایا تب مولوی عبداللہ صاحب نے کہا میں نے اس قسم کا نشان دیکھا ہے۔حضرت صاحب نے جواب سے اجتناب کرنا چاہا مگر جب انہوں نے اصرار کیا تو پھر حضرت صاحب نے رؤیا ۳؎ کا ذکر فرمایا اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا کُرتہ دیکھا گیا تو اس پر بھی نشان تھے۔مولوی عبداللہ صاحب نے درخواست کی کہ وہ کرتہ انہیں دے دیا جائے تا کہ وہ لوگوں کو نشان دکھا سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے پہلے تو انکار کیا اور فرمایا ایسی باتوں سے شرک کے پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے مگر پھر اُن کے اصرار پر اس شرط پر دے دیا کہ جب وہ فوت ہوں تو ان کے ساتھ ہی یہ کرتہ بھی دفن کر دیا جائے تاکہ اس سے کسی قسم کا شرک نہ پیدا ہو۔اس شرط پر مولوی صاحب نے وہ کرتہ لے لیا اور اس کے متعلق انہیں ایسا عشق تھا کہ جلسہ پر لوگوں کو خاص طور پر دکھلایا کرتے تھے اور اس طرح لاکھوں آدمیوں نے اس نشان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور وہ اس بات کے گواہ ہو گئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی رؤیا ایسے رنگ میں پوری ہوئی جسے کوئی سائنس کا مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔مولوی صاحب کی ٹوپی جس پر چھینٹا پڑا تھا وہ تو کسی نے چُرالی مگر کرتہ ان کے پاس محفوظ رہا جو ان کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔تو ان کی وفات کی وجہ سے ایک یہ بھی صدمہ ہے کہ ایک ایمانشان جو انسانی طاقت سے بالا تھا ہماری آنکھوں سے غائب ہو گیا۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو ایک رویا دکھائی جاتی ہے جس کے آثار باہر بھی پیدا کر دیئے جاتے ہیں۔وہ لوگ جو کہتے کہ الہام کے الفاظ کس طرح پیدا ہو سکتے ہیں ان کو دکھایا جاتا تھا کہ دیکھو یہاں تو رنگ بھی پیدا کیا گیا ہے۔یہ نشان اب نہیں دکھایا جا سکے گا۔اسی نشان کے متعلق ایک دفعہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے انکار کیا تو مولوی عبداللہ صاحب ان کے پاس پہنچے اور کہا کہ اس نشان کے متعلق میں آپ سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں مگر مولوی شاء اللہ صاحب نے مباہلہ نہ کیا۔علاوہ اس کے مولوی عبداللہ صاحب جماعت کے پرانے فرد اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے مخلص خادم تھے۔انہوں نے تمہیں