انوارالعلوم (جلد 10) — Page 48
۴۸ امر کا کرنا ہے کہ آئندہ آئین حکومت میں کیا تبدیلی ہو اور اس کے لئے ایسے آدمیوں کی ضرورت تھی جو غیر جانبدار ہوں اس لئے ہم نے نہ ہندوستان کی حکومت کے ارکان میں سے کسی کو چُناہے اور نہ ہندوستانیوں میں سے بلکہ صرف پارلیمنٹ کے ممبروں کو چُنا ہے جن کو ہندوستان کے آئین حکومت سے کوئی بالواسطہ لگاؤ نہیں ہے۔(۲) دوسرے وہ یہ کہتی ہے کہ کمیشن تبھی مفید ہو سکتاہے کہ وہ تھوڑے سے آدمیوں پر مشتمل ہو لیکن ہندوستان میں اس قدر سیاسی اختلاف ہے اور اس قدر مختلف پارٹیاں اور قومیں پائی جاتی ہیں کہ اگر سب خیال کے لوگوں اور سب فرقوں کے نمائندے نہ لئے جاتے تو شور پڑ جاتا تھا اور اگر سب کے نمائندے لئے جاتے تو کمیشن کے ممبروں کی تعداد بہت زیادہ ہو جاتی۔آخری بات بہت وزان دار ہے۔اور اگر ہم لوگ ٹھنڈے دل سے غور کریں تو سیاسی امور میں اس وقت ایسا اصولی اختلاف ہو رہا ہے کہ کوئی ہندوستانی سارے ملک کی تسلی کا موجب نہیں ہو سکتا تھا۔مسلمان، ہندو، اینگلو انڈینز، سکھ، ادنی ٰ اقوام اور پھر ان مختلف قوموں کے اندرونی فرقہ جات، پھر دوسری جہت سے مثلاً تجارت پیشہ، زراعت پیشہ اور پھر سیاسی نکتہ نگاہ سے ملک کی مختلف پارٹیاں وغیرہ وغیرہ اس قدر مختلف جماعتیں ہیں کہ ان کی موجودگی میں کسی ایک یا دو ہندوستانی کا انتخاب ہرگز ملک کی تسلی کا باعث نہ ہوتا۔بلکہ اس سے ہندوستانیوں کی بے چینی شاید اور بھیزیادہ ہو جاتی اور ایک نئی خانہ جنگی کا آغاز ہو جاتا۔مسلمانوں کے اندر طریق انتخاب کے سوال کو ہی دیکھ لو۔بعض لوگ مخلوط انتخاب کے حامی ہیں جیسے مسٹر جناح اور مولانا محمد علی۔دوسرے جُداگانہ انتخاب کے جیسے کہ سرشفیع اور سر عبدالرحیم۔اب اگر مسلمانوں میں سے کسی ایسے شخص کو ممبر منتخب کر لیا جاتا جو مخلوط انتخاب کا حامی ہوتا تو یقینا ً اس کا معتدبہ اثر اس کے ساتھ کے کمشنروں پر پڑتا اور جُداگانہ انتخاب کے حامیوں کے نزدیک مسلمان ہمیشہ کے لئے تباہ کر دیئے جاتے۔غرض کوئی ہندوستانی بھی تسلی کا موجب نہیں ہو سکتا تھا۔اندریں حالات برطانوی حکومت نے صرف پارلیمنٹ کے ممبروں کا انتخاب مناسب سمجھا۔اب خواہ نیت برطانیہ کی کچھ ہو مگر چونکہ برطانیہ اپنے فیصلہ کی یہ دلیل پیش کرتا ہے اور یہ دلیل معقول ہے۔پس خواہ مخواہ ہتک کا پہلو نکالنا اخلاقی لحاظ سے درست نہیں ہو سکتا۔خلاصہ یہ کہ میرے نزدیک کمیشن کی مجوزہ ساخت میں ہندوستانیوں کی کوئی ہتک نہیں اور اگر ہتک کا کوئی خیال ہو سکتا تھا تو وزرائے برطانیہ کے متواتر انکار نے اس احتمال کو باطل کردیا ہے۔کمیشن کا بائیکاٹ کرنے سے ہو سکتا ہے کہ ہندوستان کو آئندہ اختیارات یا تو بالکل ہی نہ ملیں یا کم