انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 21

۲۱ ایسے جلسوں میں جانے کی نہیں لیکن میں نے دعوت کو رد ّکرنا پسند نہیں کیا۔ایک شخص نے میرے کوٹ پر اعتراض کر دیا کہ ایسے اچھے کپڑے کا کوٹ ایک مذہبی جماعت کا امام ہو کر کیوں پہن رکھا ہے حالانکہ اس سے اسلام نے منع نہ کیا تھا۔غرض صفائی کی طرف توجہ ضروری ہے کہ اس سے باطن پر اثر پڑتا ہے اور کام کرنے کے لئے اُمنگ پیدا ہوتی ہے۔اپنی اولاد کو صفائی پسند بناؤ مگر ان میں زیب و زینت کی زنانہ روح پیدا نہ ہونے دو۔(۱۰) پابندی وقت دسویں چیز وقت کی پابندی ہے۔بچوں کے ہر کام کا ایک نقشہ اور وقت درج ہو تاکہ وہ مشین کی طرح کام کرنے لگیں۔اور اپنے اندر بھی یہی بات پیدا کرو۔میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اولاد کی تربیت ناراضگی سے نہیں بلکہ نگرانی سے ہوتی ہے۔(۱۱) کوئی بیکارنہ رہے گیارہویں چیز جس کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ کوئی آدمی بیکار اور نکمّا نہ ہو۔قوم کا ایک فرد بھی اگر نکمّا ہو۔تو یہ مصیبت ہے۔اور جہاں قریباً سب ہی بیکار ہوں اس مصیبت کا اندازہ کون کرے؟ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اگری (ایک قسم کی گھاس )کی جھولی لئے جا رہا ہے۔آپ نے اسے چھین لیا اور کہا جاؤ جا کر کام کرو۔مگر آج جو حالت ہے وہ تم سے پوشیده نہیں۔قوموں میں تمدنی اور اقتصادی جنگ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔اگر نکمّے ہوں تو وہ اس مقابلہ میں کیا کریں گے۔اس ملک میں ہندو، سکھ اور اچھوت ۲۴ کروڑ ہیں۔مسلمان ۷ کروڑ۔اگر نکمّے ہوں تو اس سے بڑی مصیبت کیا ہو سکتی ہے۔یہ چیزیں ہیں جو اخلاق کی مضبوطی کے لئے ضروری ہیں۔جب تک کسی شخص اور قوم میں یہ نہ پائی جاویں اخلاقی مضبوطی اس میں پیدا نہیں ہو سکتی۔اب پھر میں انفرادی ذمہ داریوں کے سلسلہ کی طرف آتا ہوں۔چوتھی انفرادی ذمہ داری چوتھی انفرادی ذمہ داری یہ ہے کہ ہر کام کے لئے آدمی ہو۔یہی نہیں کہ ہر شخص کام کرے بلکہ ہر کام کے اہل موجود ہوں۔نیوی گیشن کے لئے ملّاح بھی ہوں کمانڈر بھی ہوں ڈاکٹر بھی ہوں انجینئر بھی ہوں۔کوئی شعبہ انسانی زندگی اور اس کی ضروریات کا نہ ہو جس کے لئے قابل اور ماہر آدمی ہمارے پاس