انوارالعلوم (جلد 10) — Page 574
۵۷۴ کیونکہ اللہ الصمد صمد وہ ہے جس کی مدد کے بغیر کوئی چیز قائم نہ رہ سکے- اللہ تعالیٰٰ کا سہارا اس کی صفات کے ذریعہ ہی ہوتا ہے- اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ خیال کرنا شرک ہے کہ کوئی اور ہستیاں بھی ہیں جن کی مدد کے بغیر کوئی چیز زندہ اور قائم نہیں رہ سکتی- یا کوئی کام نہیں ہو سکتا- سوم یہ کہ کوئی خیال کرے خدا ایک زمانہ میں تھا مگر پھر فوت ہو گیا اور آگے اس کی اولاد چل پڑی- یہ بھی شرک ہے- اس سے خدا تعالیٰ میں یہ نقص ماننا پڑتا ہے کہ وہ فنا ہو جاتا ہے- یہ ازلیت کے لحاظ سے شرک ہے- چہارم یہ کہ کسی کو خدا کا ہمسر ماننا بھی شرک ہے- یعنی یہ کہ کسی دوسرے کو خدا نے اپنی طاقتیں دے دیں اور وہ اس طرح خدا کے برابر ہو گیا- یہ بھی شرک ہے- یہ چار اقسام شرک کی ہیں- دنیا کے سارے شرک ان کے اندر آ جاتے ہیں- پھر توحید کے متعلق فرمایا- اللہ لا الہ الا ھوالحی القیوم لاتا خذہ سنہ ولانوم- لہ مافی السموت ومافی الارض- من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ- یعلم مابین ایدیھم وما خلفھم ولا یحیطون بشی من علمہ الا بماشاء وسع کرسیہ السموت والارض- ولا یودہ حفظھما وھو العلی العظیم- ۵؎کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں الحی القیوم وہ اپنی ذات میں زندہ ہے اور دوسروں کو زندہ رکھتا ہے لاتاخذہ سنہ ولانوم پھر اس کے کاموں میں وقفہ نہیں پڑتا- اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کے کاموں میں وقفہ پڑ جاتا ہے تو وہ بھی شرک کا مرتکب ہوتا ہے- کیونکہ وقفہ ماننے کا یہ مطلب ہوا کہ اگر خدا کا تعلق دنیا سے نہ رہے تو بھی دنیا اپنے آپ چل سکتی ہے- تو فرمایالاتا خذہ سنہ ولانوم کہ اسے نیند یا اونگھ کبھی نہیں آئی-لہ ما فی السموت وما فی الارض ہر ایک چیز اسی کے قبضہ قدرت میں ہے- انسان کو چاہئے ہر چیز کے متعلق یہی سمجھے کہ اس کااصل مالک خدا ہی ہے اور کسی کا اختیار اس پر نہیں ہے- من ذالذی یشفع عندہ الاباذنہ پھر یہ بھی تسلیم کرے کہ بے شک دعائیں قبول کرنے کا سلسلہ خدا تعالیٰ نے جاری رکھا ہے- مگر یہ خیال نہ کرے کہ کوئی خدا سے کوئی بات زور سے منوا سکتا ہے- خدا خود کسی امر کے متعلق اجازت دے کہ لو اب مانگو- تو انسان مانگ سکتا ہے، ورنہ نہیں- یعلم مابین ایدیھم وماخلفھم وہ جانتا ہے جو ہو چکا یا جو ہوگا- توحید کے لئے علم کامل ہونا بھی ضروری ہے