انوارالعلوم (جلد 10) — Page 541
۵۴۱ مضمون کی طرف آتا ہوں- وفاداری کا جذبہ مثال کے طور پر میں وفاداری کے جذبہ کو لیتا ہوں ہر شخص اسے پسند کرتا ہے لیکن یہی جذبہ اگر بدصحبت کے متعلق استعمال ہو تو کیسا سخت مضر ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے- دو شخص ایک جرم میں شریک ہوتے ہیں ایک کی ضمیر ایک وقت میں اسے ملامت کرنے لگتی ہے لیکن اس کی وفاداری کی روح جو موازنہ نیک و بد کی طاقت سے بڑھی ہوئی تھی، اس کی اندرونی آواز کو خاموش کرا دیتی ہے اور اس کے کان میں کہہ دیتی ہے کہ بے وفا نہیں ہونا چاہئے جو کچھ ہونا تھا ہو چکا اب مجھے اپنے دوست کا ساتھ دینا چاہئے- اولاد کی محبت کا جذبہ یا مثلاً اولاد کی محبت ایک اچھا جذبہ ہے اور بقائے عالم کے زبردست اسباب میں سے ہے لیکن اگر کسی شخص کے اندر یہی جذبہ ترقی کر جائے اور باقی جذبات کو دبا دے تو یہی ایک گناہ بن جاتا ہے اور اولاد کو بھی گناہ کا عادی بنا دیتا ہے- غرض کسی ایک یا بعض خواص فطرت انسانی کا کمال حقیقی کمال نہیں ہوتا بلکہ بالکل ممکن ہے کہ بعض حالتوں میں وہ ایک خطرناک نقص کی صورت بن جائے- اور نہ ایسا کمال بنی نوعانسان کے لئے نمونہ بن سکتا ہے کیونکہ نمونہ وہی بن سکتا ہے جو طبعی ترقی کا مظہر ہو- غیر طبعی ترقی دوسرے کے لئے نمونہ نہیں بن سکتی کیونکہ اس کا حاصل کرنا دوسروں کے لئے ناممکن ہوتا ہے اور نمونہ کے لئے شرط ہے کہ اس کی نقل کرنا ہماری طاقت میں ہو- رسول کریم کا رتبہ بحیثیت انسان اس تمہید کے بعد میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں اس امر کے متعلق اپنی تحقیق کو پیش کرتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت انسان کے کیا رتبہ رکھتے تھے- انسانی تقاضے نبوت کے منافی نہیں جو کچھ میں اوپر لکھ آیا ہوں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ(۱) نبوت کمالات انسانیہ کے صحیح ظہور کا نمونہ پیش کرنے کیلئے آتی ہے- (۲) پس کامل نبی کے لئے کامل انسان ہونا ضروری ہے- (۳) اگر کوئی شخص بعض خواص انسانی کو ان کی انتہائی صورت میں دکھاتا ہے تو یہ اس کے کامل انسان ہونے کی علامت نہیں بلکہ بسا اوقات یہ امر اس کے نظام عصبی کی ظاہر یا مخفی خرابی کی علامت ہو سکتا ہے ان امور کو سمجھ لینے کے بعد یہ امر بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ جو لوگ انسانی تقاضوں کے پورا کرنے کو نبوت کے منافی سمجھتے ہیں وہ سخت غلطی کرتے ہیں- حق یہ ہے کہ