انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 381

۳۸۱ نہرو کمیٹی میں مسلمانوں کو موجودہ حق نیابت سے بھی کم حق دیا ہے یعنی صرف چوتھائی- پس جب کہ ہمارا موجودہ تجربہ یہ ہے کہ تیس فیصدی حق کے باوجود بھی مسلمان اسمبلی میں اپنی مرضی نہیں منوا سکتے- حالانکہ بعض دفعہ وہ گورنمنٹ کے ممبروں سے بھی مل جاتے ہیں- تو آئندہ پچیس فیصدی ممبروں کے ساتھ وہ کیا کچھ کر سکیں گے اور خصوصاً جب کہ انگریز ممبروں کا عنصر آزاد حکومت میں سے بالکل مٹ جائے گا- پھر خصوصاً جب کہ سوال کسی عام پالیسی کا نہ ہوگا، بلکہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی طاقت موجودہ قوانین کی وجہ سے کمزور ہے- ان کو طاقتور کرنے کے لئے قوانین میں تبدیلی کرنی چاہے اور ان کے پرانے مطالبات کو پورا کر دینا چاہئے- کیا کوئی عقلمند ایک منٹ کیلئے بھی تسلیم کر سکتا ہے کہ اس سوال کے پیش ہونے پر ایک ہندو بھی مسلمانوں کے حق میں ووٹ دے گا- اور کیا کوئی عقلمند بھی اس امر کو تسلیم کر سکتا ہے- کہ اس صورت میں پچیس فی صدی ممبر پچھتر فیصدی ممبروں کی رائے کے خلاف قانون پاس کرا لیں گے- اور پھر جب ہم یہ دیکھیں کہ جس قانون کی تبدیلی کا سوال ہوگا وہ قانون اساسی ہے نہ کہ عام قوانین اور قوانین اساسی کی تبدیلی اور بھی زیادہ مشکل ہوتی ہے- نہرو کمیٹی نے اپنی رپورٹ کے صفحہ۱۲۳ پر قانون اساسی کے بدلنے کا مندرجہ ذیل طریق پیش کیا ہے-: ‏ پارلیمنٹ نیا قانون بنا کر قانون اساسی کی جس دفعہ کو چاہئے منسوخ یا تبدیل کر سکتی ہے- مگر شرط یہ ہوگی کہ وہ بل جس میں قانون اساسی کی تبدیلی کا سوال اٹھایا گیا ہو وہ پارلیمنٹ کی دونوں مجلسوں کی مشترکہ میٹنگ میں پاس ہوا ہو- اس طرح کہ تیسری دفعہ ووٹ لیتے وقت دونوں مجالس کے ممبروں کی کل تعداد میں سے کم سے کم دو تہائی ممبر دونوں مجالس کے اس کے پاس کرنے پر متفق ہوں’‘- اس قاعدہ کی رو سے مسلمانوں کو اگر محسوس ہو کہ انہوں نے نہرو کمیٹی کی رائے کو قبول کرنے میں غلطی کی ہے- اور اپنے مطالبات کے چھوڑنے میں جلد بازی سے کام لیا ہے تو انہیں موجودہ مطالبات پورا کرانے کے لئے نہ صرف یہ ضروری ہوگا کہ ان کا ہر ایک ممبر اس وقت مجلس میں موجود ہو اور ان کے پیش کردہ مسودہ کی تائید کرے، بلکہ یہ بھی ضروری ہوگا کہ ہندو ممبروں کی کل تعداد میں سے بھی بیالیس فیصدی یعنی دو سو چونتیس ممبران کی تائید میں ہوں- کیا کوئی نیم مجنون بھی یہ امید کر سکتا ہے کہ ایک ایسے مسودہ کی تائید جس کا مسلمانوں کو فائدہ پہنچتا ہو اور جس کی وجہ سے ہندوؤں کو اپنے بعض غصب کئے ہوئے حقوق واپس کر دینے پڑتے