انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 374

۳۷۴ بھی ملتا ہے کہ پنڈت موتی لال نہرو صاحب نے بمبئی کونسل میں سندھ کی علیحدگی کے مسودہ کو روکنا چاہا ہے- اور کانگریسی ممبروں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر اس مسودہ کو مسلمان ضرور ہی پیش کریں تو وہ اس کی مخالفت کریں- مطالبہ پنجم اور نہرو کمیٹی کا فیصلہ پانچواں سوال زبان کا تھا- اس سوال کو نہرو کمیٹی نے بالکل نظر انداز کر دیا ہے- وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک معمولی سوال ہے- اول تو یہ سوال معمولی نہیں ہے- اس سے مسلمانوں کی ترقی اور تنزل وابستہ ہے- ہندوستان کی آئندہ حکومت اردو کو اڑا دے- پھر دیکھو کس طرح چند ہی سال میں مسلمانوں کے ہاتھوں سے وہ تھوڑے بہت کام بھی نکل جاتے ہیں- جو اس وقت ان کے ہاتھ میں ہیں- اور کس طرح ان کی مخصوص تہذیب برباد ہو جاتی ہے- لیکن اگر اسے معمولی بھی فرض کر لیا جائے، تب بھی دیکھنا تو یہ ہے کہ جس قوم سے معاملہ ہے وہ اسے کیا اہمیت دیتی ہے- اگر مسلمان اردو کے سوال کو اہمیت دیتے ہیں- اور اسے اپنی زندگی اور موت کا سوال سمجھتے ہیں تو اسے نظر انداز کرنے کا حق کسی کو نہیں پہنچتا- مگر میں اس امر پر بعد میں بحث کروں گا کہ زبان کا سوال نہ معمولی ہے اور نہ یہ صرف ہندوستان میں پیدا ہوا ہے- بلکہ اسے دوسرے ممالک میں بھی اہمیت دی گئی ہے- اور اس کے لئے خاص قوانین بنائے گئے ہیں جو قانون اساسی کے ساتھ ہی منظور کئے گئے ہیں- مطالبہ ششم اور نہرو کمیٹی کا فیصلہ چھٹا مطالبہ مذہبی اور اقتصادی دست اندازی سے روکنے کے متعلق تھا- لیکن اس کے متعلق بھی نہرو کمیٹی کی رپورٹ واضح نہیں ہے- بلکہ لفظوں کے ہیر پھیر میں اس مطالبہ کی اہمیت اور اس کی وسعت کو دبا دیا گیا ہے اس کے متعلق جو کچھ نہروکمیٹی نے فیصلہ کیا ہے وہ ذیل میں درج ہے- وہ اصولی حقوق کے عنوان کے نیچے چوتھے مادہ میں لکھتی ہے- ‘’ضمیر کی آزادی اور مذہب کا آزادانہ اقرار اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق بشرطیکہ ایسا مذہبی فعل یا اعلان ملکی امن اور اخلاق کے خلاف نہ ہو ہر فرد بشر کو حاصل ہوگا’‘- ۱۸؎ یہ الفاظ مسلمانوں کے مطالبہ کو پورا نہیں کرتے- گائے کی قربانی پر ہمیشہ ہندو فساد کرتے ہیں- اس قانون کی رو سے ان کے فساد کی بنا پر گائے کی قربانی سے مسلمانوں کو روکا جا سکتا ہے-