انوارالعلوم (جلد 10) — Page 373
۳۷۳ انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہوگا- مطالبہ چہارم کے متعلق نہرو کمیٹی کا فیصلہ چوتھا سوال صوبہ سرحدی اور بلوچستان کو نیابتی حکومت دینے اور سندھ کو الگ صوبہ بنا کر نیابتی حکومت دینے کے متعلق تھا- نہرو کمیٹی نے صوبہ سرحدی کے متعلق مطالبہ کو تسلیم کیا ہے- بلوچستان کو مشتبہ چھوڑ دیاہے- اور سندھ کے متعلق یہ شرط لگا دی ہے کہ جب تک وہ مالی طور پر اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ ہو جائے یا اس کے باشندے مالی بوجھ کو اٹھانے کیلئے آمادہ نہ ہوں، اس وقت تک اس صوبہ کو آزاد نہ کیا جائے- بظاہر یہ شرطیں معقول معلوم ہوتی ہیں- کیونکہ کہا جا سکتا ہے کہ جو صوبہ اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا وہ الگ کس طرح ہو سکتا ہے- گو مسلمان یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر وہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور الگ نہیں ہو سکتا تو پھر جداگانہ انتخاب کو بھی نہ اڑاؤ جس کے لئے سندھ کی علیحدگی بطور شرط ہے- مگر میں بتانا چاہتا ہوں کہ نہرو کمیٹی کے ان سیدھے سادے فقروں کے نیچے نہایت گہرا مضمون پوشیدہ ہے- بوجھ کا لفظ ایسا غیر محدود ہے کہ اس کی حد بندی میں ہی سندھ کو علیحدگی سے محروم رکھا جا سکتا ہے- بوجھ سے مراد ایک سیدھا سادہ نظام بھی ہو سکتا ہے- جس کا اٹھانا یقیناً سندھ کے لئے مشکل نہ ہوگا- لیکن بوجھ سے مراد ایک ایسا بوجھ بھی ہو سکتا ہے، جسے سندھ جیسا چھوٹا صوبہ اٹھا ہی نہ سکے- اور اس صورت میں وہ کبھی الگ ہی نہ ہو سکے- میرے لئے شک کرنیکی کافی وجہ موجود ہے کہ اس جگہ بوجھ سے مراد ضرورت اور طاقت سے زیادہ بوجھ ہے- کیونکہ نہرو رپورٹ ہی میں لکھا ہے کہ اس کے پاس ایک درخواست سندھ کے ہندوؤں، مسلمانوں اور پارسیوں کی مشترکہ آئی تھی کہ سندھ کو علیحدہ کر دیا جائے اور مالی مشکلات کے متعلق اس درخواست میں یہ حل پیش کیا گیا تھا- کہ ‘’ان کا کوٹ ان کے کپڑے کے مطابق بیونت دیا جائے’‘ یعنی جس قدر طاقت مالی ان کے صوبہ میں ہے- اسی کے مطابق ان کے صوبہ کی گورنمنٹ کا انتظام کر دیا جائے- اور زیادہ دیر تک مالی حالت کی ترقی کا انتظار نہ کیا جائے- لیکن کمیٹی کہتی ہے کہ وہ ان کی اس خواہش کو مالی مشکلات کا آخری حل نہیں قرار دے سکتی-۱۷؎ اس سے ظاہر ہے کہ سندھ کے لئے ایک ایسا انتظام تجویز کیا جائے گا جو اس کی طاقت سے باہر ہو- اور چونکہ وہ اس بوجھ کو اٹھانے کا اقرار کر ہی نہ سکے گا- کیونکہ اس کے معنی یہ ہونگے- کہ وہ بجائے اقتصادی ترقی کے اپنی پہلی حالت کو بھی کھو بیٹھے- اس لئے سندھ کو الگ بھی نہیں کیا جائے گا- اس کا مزید ثبوت اس سے