انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 370

۳۷۰ ان کی نیابت اچھی طرح ہو سکے- اس مطالبہ میں کلکتہ اور لاہور لیگ برابر کی شریک ہیں- نہروکمیٹی نے اس مطالبہ کو بھی رد کر دیا ہے- وہ لکھتی ہے- ‘’مسلمان برطانوی ہندوستان میں ایک چوتھائی سے کچھ کم ہیں- اور ان کے لئے مرکزی پارلیمنٹ میں اس نسبت آبادی سے زیادہ ممبریاں ہر گز محفوظ نہیں کی جا سکتیں’‘- ۱۵؎ اس وقت لیجسلیٹو اسمبلی میں مسلمانوں کی تعداد گو پوری تینتیس فیصدی نہیں ہے- مگر چوتھائی سے زیادہ ہے- چنانچہ نہرو رپورٹ میں اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے- اس وقت مسلمانوں کی تعداد لیجسلیٹو اسمبلی میں تیس فیصدی ہے- نہرو رپورٹ آئندہ نظام حکومت میں مسلمانوں کو اس قدر بھی حق نہیں دینا چاہتی- گویا مسلم لیگ تو اس بنا پر کہ مسلمانوں کی مختلف جماعتوں کی نمائندگی چوتھائی ممبروں سے نہیں ہو سکتی- اور کسی قدر زیادہ ممبریوں کے دینے سے ہندوؤں کو کوئی نقصان نہیں موجودہ ممبریوں سے زیادہ کا مطالبہ کرتی ہے اور کم سے کم اس کا مطالبہ یہ ہے کہ موجودہ تعداد ہی رہنے دی جائے- لیکن نہرو کمیٹی موجودہ حق کو بھی چھین کر مسلمانوں کی نیابت کو ایک چوتھائی پر لے آتی ہے- اور مسلم لیگ کے دعویٰ پر وہی مثل صادق آتی ہے کہ چوبے جی چھبے ہونے گئے تھے دوبے ہو کر آئے- مطالبہ سوئم کے متعلق نہرو کمیٹی کا فیصلہ تیسرے مطالبہ میں مسلمانوں میں اختلاف تھا- لاہور لیگ جب تک ہندو مسلمانوں میں اعتبار قائم نہ ہو جائے اور مسلمان اپنی مرضی سے جدا گانہ انتخاب کو چھوڑنے پر راضی نہ ہوں، جداگانہ انتخاب کو چھوڑنے کیلئے تیار نہ تھی- کلکتہ لیگ کے نزدیک اگر سندھ کو الگ صوبہ بنا دیا جائے اور صوبہ سرحدی اور بلوچستان کو وہی اختیارات دے دیئے جائیں جو باقی صوبوں کو تو ان تبدیلیوں کے مکمل ہو جانے کے بعد کوئی حرج نہ تھا، اگر مسلمان اپنے جداگانہ انتخاب کے حق کو چھوڑ دیں- ان دونوں مطالبات میں سے کسی مطالبہ کو بھی لے لیا جائے- نہرو رپورٹ نے اسے پورا نہیں کیا- نہرو کمیٹی تسلیم کرتی ہے کہ مسلم لیگ کونسل کا یہ فیصلہ تھا کہ یہ کم سے کم مطالبہ ہے جسے کم کرنے کیلئے مسلمان تیار نہیں ہونگے- اور کلکتہ لیگ کے ریزولیوشن بتاتے ہیں کہ اس کا بھی یہی منشا تھا- کیونکہ جیسا کہ میں اوپر درج کر آیا ہوں، کلکتہ لیگ کے ریزولیوشن میں یہ الفاظ صاف طور پر درج ہیں کہ-: