انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 350

۳۵۰ کے متعلق اپنی رائے کا باقساط اظہار کرنا چاہتا ہوں- اگر ضرورت محسوس ہوئی تو بعد میں اسے رسالہ کی صورت میں بھی شائع کر دیا جائے گا- کیا نہرو کمیٹی کسی صورت میں بھی ہندوستان کی نمائندہ کہلا سکتی ہے سب سے پہلے تو میں اس سوال کو لیتا ہوں- کہ کیا نہرو کمیٹی تمام ہندوستان کی نمائندہ کہلا سکتی ہے- اور اس کے فیصلہ کو اس عزت کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے- جو ایک ملک کی نمائندہ کمیٹی کی رپورٹ کو حاصل ہونی چاہئے- اس سوال کا جواب دینے کیلئے میں خود اسی رپورٹ کے بیان کو لیتا ہوں- میرے نزدیک اس رپورٹ کو پڑھ لینا ہی اس امر کے معلوم کرنے کیلئے کافی ہے کہ اس کمیٹی کو کسی صورت میں بھی ملک کی نمائندہ کمیٹی نہیں کہا جا سکتا- اس رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ نہرو کمیٹی کو آل پارٹیز کانفرس (ALLPARTIESCONFERENCE)نے بمبئی کے مقام پر ۲۹ مئی ۱۹۲۸ء کو مقرر کیا تھا- یہ آل پارٹیز کانفرنس کیا تھی اور کس طرح وجود میں آئی- اس کا حال بھی اسی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندو مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے فسادات کو دیکھ کر دسمبر۱۹۲۶ء کے اجلاس میں نیشنل کانگریس نے گوہاٹی کے مقام پر ایک ریزولیوشن پاس کیا تھا کہ ‘’ورکنگ کمیٹی (WORKINGCOMMITTEE) ہندو اور مسلمان لیڈروں سے مشورہ کر کے ایسی تجاویز کرے کہ جن کے ذریعہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین جو قابل افسوس تنازعات ہو رہے ہیں، دور کئے جا سکیں اور ورکنگ کمیٹی اپنی رپورٹ ۳۱ مارچ ۱۹۲۷ء سے پہلے پہلے پیش کرے’‘-۱؎ اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے ورکنگ کمیٹی ہندو اور مسلمان لیڈروں سے مشورہ کرتی رہی- لیکن اسی اثناء میں ۲۰ مارچ ۱۹۲۷ء کو بعض بڑے بڑے مسلمان لیڈروں نے دہلی کے مقام پر ایک اجتماع کیا اور ہندو مسلم فسادات کو مٹانے کے لئے بعض تجاویز شائع کیں جن کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمان مشترک انتخاب پر رضا مند ہو جائیں گے- بشرطیکہ(۱)سندھ کو مستقل صوبہ بنا دیا جائے- (۲)صوبہ سرحدی اور بلوچستان کو بھی وہی حقوق ¶دے دیئے جائیں جو دوسروں صوبوں کو حاصل ہیں- (۳)پنجاب اور بنگال میں آبادی کی تعداد کے مطابق سب اقوام کو حقوق نیابت حاصل ہوں- (۴)مرکزی دارالنواب )لیجسلیٹو اسمبلی- (LEGISLATIVEASSEMBLY میں مسلمانوں کو کم سے کم ایک تہائی نیابت ملے-