انوارالعلوم (جلد 10) — Page 334
۳۳۴ زندہ کیا کرتے تھے اور پرندے بھی پیدا کیا کرتے تھے اور جب یہود نے انہیں مارنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمان پر اٹھا لیا تھا اور وہ اب تک وہاں زندہ موجود ہیں لیکن ان لوگوں کے برخلاف آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ اس قسم کے امور کا واقع ہونا تعلیم قرآنی کے خلاف ہے- تو اس صورت میں کیا مولوی صاحب یہ جائز سمجھیں گے کہ غیر احمدی صاحبان مولوی صاحب کی نسبت جو ان امور کے قائل نہیں یہ اعلان کریں کہ وہ معجزات کے قائل نہیں ہیں- اور مولویصاحب یہ جواب دیں کہ میں تو معجزات کا قائل ہوں البتہ اس تشریح کا پابند نہیں ہوں جو دوسرے لوگ کرتے ہیں اور جو میرے نزدیک قرآن کریم کے خلاف ہے- پس مجھے معجزات کا منکر نہیں کہا جا سکتا- تو کیا مولوی صاحب یہی جواب ہماری طرف سے نہیں دے سکتے تھے اور یہ خیال نہیں کر سکتے تھے کہ گو ہمارا اور ان کا ختم نبوت کے مفہوم میں اختلاف ہے لیکن یہ لوگ چونکہ اس امر کے مدعی ہیں کہ انہیں ختم نبوت پر ایمان ہے اس لئے انہیں خاتم النبین کا منکر نہیں کہا جا سکتا- مگر یہ جواب تو مولوی صاحب کو تب سوجھتا جب وہ عدل اور انصاف سے مسئلہ کی حقیقت پر غور کرنے کے لئے تیار ہوتے- پھر کیا مولوی صاحب اس امر کا جواب دیں گے کہ ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ماننا اور ان کی نسبت یہ یقین کرنا کہ وہ بغیر کھانے پینے کے آسمان پر بیٹھے ہیں اور وہ پرندے پیدا کیا کرتے تھے اور مردے زندہ کیا کرتے تھے شرک ہے یا نہیں- تو پھر کیا وہ اس امر کا اعلان کریں گے کہ تمام مسلمان لا الہ الا اللہ دھوکے اور فریب سے پڑھتے ہیں دراصل وہ سب کے سب مشرک ہیں اور توحید کے منکر ہو کر کافر ہو چکے ہیں- اگر نہیں تو کیوں؟ جب انہوں نے ہم پر ختم نبوت کے منکر ہونے ¶کا الزام لگایا ہے اور دھوکے باز ہونے کا فتویٰ دے دیا ہے اس لئے نہیں کہ ہم ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں بلکہ اس لئے کہ ان کے نزدیک ختم نبوت کی جو تشریح ہے ہم اس سے اختلاف رکھتے ہیں تو کیا سبب ہے کہ غیر احمدیوں کی نسبت جو لا الہ الا اللہ تو کہتے ہیں مگر شرک کی تعریف میں مولوی صاحب سے اختلاف رکھتے ہوئے وہ بعض ایسے امور کے قائل ہیں جن کو مولوی صاحب شرک قرار دیتے ہیں مولوی صاحب یہ اعلان نہیں کرتے کہ یہ لوگ دھوکے سے لا الہ الا اللہ کہتے ہیں ورنہ اصل میں یہ مشرک ہیں- کیا ایسا نہ کرنے کی یہی وجہ تو نہیں کہ مولوی صاحب کے تمام کاموں کا