انوارالعلوم (جلد 10) — Page 300
۳۰۰ ملتے ہیں- ایک لونڈی مجھے بھی دے دی جائے- اس کے جواب میں آپ نے فرمایا- یہ چھالے اس سے اچھے ہیں کہ اس مال سے تمہیں کچھ دوں- تم اس حالت میں خوش رہو کہ یہی خدا تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اس مال میں حق تھا اور آپ جائز طور پر اس سے لے سکتے تھے- مگر آپ نے یہ دیکھ کر کہ ابھی مسلمانوں کی ضرورت بہت بڑھی ہوئی ہے، اس مال میں سے کچھ نہ لیا اور اپنی نہایت ہی پیاری بیٹی کی تکلیف کو برادشت کیا- آپ کا اپنی بیویوں کے جذبات کی قربانی کرنے کا ذکر میں پہلے کر آیا ہوں- دوستوں کے جذبات کی قربانی اس کے متعلق میں حضرت ابوبکرؓ کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں ان کی کسی یہودی سے گفتگو ہوئی- یہودی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت دی- اس پر حضرت ابوبکر کو غصہ آ گیا- اور آپ نے اس سے سختی کی مگر جب یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ حضرتابوبکرؓ سے ناراض ہوئے اور فرمایا- آپ کا حق نہ تھا کہ اس طرح اس شخص سے جھگڑتے- بظاہر یہ قربانی معمولی بات معلوم ہوتی ہے- مگر عقلمند جانتے ہیں کہ ایک بادشاہ کے لئے جو ہر وقت دشمنوں سے گھرا ہوا ہو- دوستوں کے جذبات کا احترام کیسا ضروری ہوتا ہے- مگر آپ نے دوسرے لوگوں کو تکلیف سے بچانے کے لئے کبھی اپنے دوستوں کے جذبات کی پرواہ نہیں کی- اس قسم کی قربانی کی دوسری مثال کے طور پر میں صلح حدیبیہ کا ایک مشہور واقعہ پیش کرتا ہوں- اس صلح کی شرائط میں سے ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی شخص مکہ سے بھاگ کر اور مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آئے گا، تو اسے واپس کر دیا جائے گا- لیکن اگر کوئی مسلمان مرتد ہو کر مکہ والوں کے پاس جائے گا، تو اسے واپس نہیں کیا جاوے گا ابھی یہ معاہدہ لکھا ہی جا رہا تھا کہ ایک شخص ابو بصیر نامی مکہ سے بھاگ کر آپ کے پاس آیا- اس کا جسم زخموں سے چور تھا- بوجہ ان مظالم کے جو اس کے رشتہ دار اسلام لانے کی وجہ سے اس پر کرتے تھے- اس شخص کے پہنچنے پر اور اس کی نازک حالت کو دیکھ کر اسلامی لشکر میں ہمدردی کا ایک زبردست جذبہ پیدا ہو گیا- لیکن دوسری طرف کفار نے بھی اس کے اس طرح آنے میں اپنی شکست محسوس کی اور مطالبہ کیا کہ بموجب معاہدہ اسے واپس کر دیا جائے- مسلمان اس بات کے لئے