انوارالعلوم (جلد 10) — Page 258
۲۵۸ انہوں نے کہا- بس میں اور کچھ نہیں معلوم کرنا چاہتا- میں جانتا ہوں کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا- اور میں آپ پر ایمان لاتا ہوں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے جسے بھی اسلام کی دعوت دی اس میں کچھ کجی پائی- لیکن ابوبکر نے فوراً ہی میری بات کو قبول کر لیا-۸؎ (اس سے مراد خاندان کے باہر کے لوگ ہیں ورنہ حضرت خدیجہ حضرت علیؓ اور زید بن حارثہؓ جو بیٹوں کی طرح آپ کے گھر میں پلے تھے اس میں شامل نہیں- یہ لوگ فوراً ایمان لے آئے تھے- ) یہ دوست کی شہادت ہے کہ وہ کوئی دلیل، کوئی ثبوت، کوئی معجزہ طلب نہیں کرتا- صرف اتنا کہتا ہے کہ یہ بتا دیجئے کیا آپ نے دعویٰ کیا ہے؟ اور جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ دعویٰ کیا ہے تو ایمان لے آتا ہے- ایک اور دوست آپ کا حکیم ابن حزام تھا- وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب جا کر ایمان لایا- ۲۱ سال کے قریب وہ آپ کا مخالف رہا- مگر باوجود اس کے کہ اس نے آپ کے دعویٰ کو نہ مانا، تا ہم اتنا اخلاص رکھتا تھا کہ ایک بادشاہ کا مال جب مکہ میں آ کر نیلام ہوا تو ایک کوٹ جو کئی سو کی قیمت کا تھا اور لوگوں کو بہت پسند آیا تھا، اسے جب اس نے دیکھا تو کہنے لگا محمد ) صلی اللہ علیہ وسلم ( سے زیادہ یہ کسی کو نہ سجے گا- اس نے وہ کوٹ خرید لیا اور ہدیہ کے طور پر آپ کے لئے مدینہ میں لے کر آیا- اس اخلاص سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ آپ کو غلطی لگ گئی ہے- مگر یہ نہ سمجھتا تھا کہ آپ فریب دے رہے ہیں- تبھی تو باوجود ایمان نہ لانے کے وہ آپ کے لئے ایک قیمتی تحفہ خرید کر مکہ سے مدینہ تین سو میل کی مسافت طے کر کے لے گیا- ایک غیر جانبدار کی شہادت لیکن بعض دفعہ دوست کی شہادت کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ دوست جو ہوا اس کی شہادت دوست کے حق میں ہی ہوگی- اس لئے میں ایک غیر جانبدار کی شہادت پیش کرتا ہوں- وہ آپ کے بچپن کے متعلق ہے اور یہ ایک لونڈی کی شہادت ہے- ابوطالب کی لونڈی کہتی ہے- جب بچپن میں آپ اپنے چچا ابوطالب کے گھر آئے تو سارے بچے آپس میں لڑتے جھگڑتے تھے- مگر آپ نے کبھی ایسی باتوں میں حصہ نہ لیا- کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھ کر سارے بچے لپک پڑتے- مگر آپ کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے- جو کچھ دے دیا جاتا کھا لیتے، خود کچھ نہ مانگتے- یہ آپ کے وقار،