انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 238

۲۳۸ عورتوں کو غلامی سے نجات دلانے والا نبیؐ جُرم کو ظاہر کرے اور گواہی پر اس کی بنیاد رکھے اور سزا ای نہ ہو جو دیر پا اثر چھوڑنے والی ہو۔خاوند اپنی بیوی کا مالک ہیں وہ اسے بیچ نہیں سکتا نہ اسے خادموں کی طرح رکھ سکتا ہے، اس کی بیوی اس کے کھانے پینے میں اس کے ساتھ شریک ہے اور اس کے ساتھ سلوک اپنی حیثیت کے مطابق اسے کرنا ہو گا اور جس طبقہ کا خاوند ہے اس سے کم لوگ اسے جائز نہ ہو گا۔خاوند کے مرنے کے بعد اس کے رشتہ داروں کو بھی اس پر کوئی اختیار نہیں۔وہ آزاد ہے، نیک صورت دیکھ کر اپنا نکاح کر سکتی ہے، اس سے اسے روکنے کا کسی کو حق نہیں۔نہ اسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک خاص جگہ پر رہے، صرف چار ماہ دس دن تک اسے خاوند کے گھر ضرور رہنا چاہئے تا اس وقت تک وہ تمام حالات ظاہر ہو جائیں جو اس کے اور خاوند کے دوسرے متعلقین کے حقوق پر اثر ڈال سکتے ہیں۔عورت کو اس کے خاوند کی وفات کے بعد سال بھر تک علاوہ اس کے ذاتی حق کے خاوند کے مکان میں سے نہیں نکالنا چاہئے تا اس عرصہ میں وہ اپنے حصہ سے اپنی رہائش کا انتظام کر سکے۔خاوند بھی ناراض ہو تو خود گھر سے الگ ہو جائے عورت کو گھر سے نہ نکالے کیونکہ گھر عورت کے قبضہ میں سمجھا جاتا ہے۔بچوں کی تربیت میں عورت کا بھی حصہ ہے اس سے مشورہ لے لینا چاہئے اور اسے بچہ کے متعلق کوئی تکلیف نہیں دینی چاہئے۔دودھ پلوانے نگرانی و غیره بچہ کے متعلق تمام امور میں اس سے پوچھ لینا چاہئے اور اگر عورت اور مرد آپس میں نبھاؤ کو ناممکن پا کر جُد ا ہونا چاہیں تو چھوٹے بچے ماں ہی کے پاس رہیں۔ہاں جب بڑے ہو جائیں تو تعلیم وغیرہ کیلئے باپ کے سپرد کر دیئے جائیں۔جب تک بچہ ماں کے پاس رہیں ان کا خرچ باپ دے بلکہ ماں کو ان کے لئے جو وقت خرچ کرنا پڑے اور کام کرنا پڑے تو اس کی بھی مالی مدد خاوند کو کرنی چاہئے۔عورت مستقل حیثیت رکھتی ہے اور دینی انعامات بھی وہ ہر قسم کے پا سکتی ہے۔مرنے کے بعد بھی وہ اعلی ٰدرجہ کے انعامات پائے گی اور اس دنیا میں بھی حکومت کے مختلف شعبوں میں وہ حصہ لے سکتی ہے۔اور اس صورت میں اس کے حقوق کاویساہی خیال رکھا جائے گا۔جس طرح کہ مردوں کے حقوق کا۔یہ وہ تعلیم ہے جو رسول کریم ﷺنے اس وقت دی جب اس کے بالکل برعکس خیالات دنیا میں رائج تھے۔آپ نے ان احکام کے ذریعہ عورت کو اس غلامی سے آزاد کرا دیا۔جس میں وہ ہزاروں سال سے مبتلا تھی جس میں وہ ہر ملک میں پابند کی جاتی تھی جس کا طوق ہر مذہب اس کی گردن میں ڈالتا تھا۔ایک شخص نے ایک ہی وقت میں ان دیر ینہ قیود کو کاٹ دیا