انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 70

۷۰ سال کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی صحبت اختیار کی کثرت سے قادیان آتے اور بڑا اخلاص رکھتے تھے۔دوسرے ایک اور صاحب جو بہت پرانے تو نہ تھے مگر بڑا اخلاص رکھتے تھے اور خصوصیت سے سیالکوٹ کی جماعت میں سے جن تین اصحاب کو خدا نے خلافت ثانیہ کے شروع کے وقت فتنہ سے محفوظ رکھا ان میں سے ایک تھے یعنی منشی محمد عبدالله صاحب وہ بھی فوت ہو گئے ہیں ان کے فوت ہونے کا بھی ہمیں صدمہ ہے۔اسی زمانہ میں بعض ایسی عورتوں کی بھی وفات ہوئی ہے جو بطور نشان ہے یا جو قومی لحاظ سے افسوسناک جیسے تائی صاحبہ کا انتقال۔ان کی وفات پر میں نے ایک خطبہ میں بھی ذکر کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ بھی ایک نشان تھیں۔ہمارے شیخ یعقوب علی صاحب جنہیں ایسے نشانات معلوم کرنے کا خاص طور پر شوق ہے انہوں نے کوشش کی کہ تائی صاحبہ کے متعلق ان کے سلسلہ میں داخل ہونے سے قبل کے رویہ پر کوئی الزام نہ آنے دیں اور اس قسم کی باتوں کو مٹا دیں اور اس لئے بھی انہوں نے یہ کوشش کی کہ ہماری تائی ہونے کی وجہ سے انہیں احترام مدنظر تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے بھی لکھا ہے کہ تائی صاحبہ خاندان میں سے آپ کی سب سے زیادہ مخالفت کرتی رہیں ہیں اور میں نے خود سنا کہ جب بھی مجھے دیکھتیں تو یہ کہتیں ’’جیسے کاں ویسی کو کو‘‘ یعنی طنزاً کہتیں جیسا باپ ہے ویساہی بیٹا ہے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی جو مخالفت کی اس کے بیان کرنے میں ان کی کوئی ہتک نہیں بلکہ عزت ہے۔دیکھو حضرت عمررضی اللہ عنہ رسول کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادہ سے گھر سے نکلے مگر آپ کے ہمیشہ کے لئے غلام بن گئے۔اس کے بیان کرنے میں نہ تو حضرت عمرؓ کی ہتک ہے اور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی۔حضرت عمرؓ کی تو اس لئے نہیں کہ آپ گئے تو قتل کرنے کے لئے تھے مگر خدا تعالی نے آپ کو ہدایت دے دی اور آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو بغض اور عداوت تھی اسے محبت اور اخلاص میں بدل دیا اور رسول کریم صلی للہ علیہ و آلہ وسلم کی اس لئے ہتک نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ شان تھی کہ قتل کرنے کے ارادہ سے آنے والے بھی آپؐ کی صداقت کے قائل ہو گئے۔تو تائی صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے شدید مخالفوں میں سے تھیں۔کبھی ایسانہ ہوتا تھا کہ آپ سامنے سے گزریں اور بُرا بھلا نہ کہیں لیکن اس زمانے مخالفت میں خدا تعالی نے آپ کو بتایا کہ یہ ایمان لے