انوارالعلوم (جلد 10) — Page 35
۳۵ اسی میں ہے اور کسی دوسرے کو نقصان پہنچانا میرا مقصود نہیں۔اس طریق کو اختیار کرو تب فائده ہو گا۔اب میں آخری اور مختصر سے جملہ پر ختم کر دیتا ہوں۔میں جبکہ تمام لوگوں سے صلح اور مودّت کی تعلیم دیتا ہوں۔ہندو، سکھ ، عیسائی جو کوئی بھی یہاں موجود ہیں میں ان سے صاف صاف کتا ہوں کہ صلح اور آشتی کے لئے ہم پر قربانی کے لئے تیار ہیں مگر میں اس کے ساتھ ہی پوری قوت اور زور کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ جنگل کے درندوں اور سانپوں سے ہم صلح کر سکتے ہیں مگر ہم ان سے کبھی بھی صلح نہیں کر سکتے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دیتے ہیں۔و الشعراء۔:۴ ترمذی ابواب الدعوات باب ما جاء في فضل الله او \" البقرة :۱۴۹ کنزالعمال جلدها صفحہ ۱۳۶ حديث نمبر۲۸۹۸۶ مطبوعہ اے ۱۹ء الفاتحة :۱،۷ يوسف :۸۸ النحل :۴۶