انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 604

۶۰۴ حضرت ابو ذر غفاریؓ کا قصہ حدیث میں آتا ہے جب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سنا تو وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی تعلیم کو سن کر اسلام میں داخل ہو گئے- چونکہ آپ کا قبیلہ سخت مخالف تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اسلام کے مخفی رکھنے کی اجازت چاہی- آپ نے اجازت دے دی- اس کے بعد کچھ دن وہ حضور کی صحبت میں رہے اور اس قدر اسلام کی محبت ان کے اندر موجزن ہوئی کہ وہ سرداران مکہ کے سامنے جا کر بلند آواز سے کہنے لگے-اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھدان محمدا رسول اللہ-اس پر انہیں اس قدر زدو کوب کیا گیا کہ وہ بے ہوش گئے- حضرت عباس جو ابھی اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے وہاں سے گذرے اور انہیں یہ کہہ کر چھڑایا کہ جانتے ہو کہ یہ شخص کون ہے؟ غفار قبیلہ کا ہے اور اگر وہ تمہارے مخالف ہوگئے تو تمہاری ساری تجارت بند ہو جائے گی اور کوئی چیز تمہارے پاس نہیں پہنچ سکے گی- اس دن تو وہ چھوٹ گئے لیکن دوسرے دن پھر اسی طرح کیا اور پھر مار کھائی- پہلے تو وہ اپنے قبیلہ میں جا کر اپنے اسلام کے مخفی رکھنے کی اجازت چاہتے تھے مگر ایمان نے ایسا جوش مارا کہ انہوں نے مکہ ہی میں اشاعت اسلام شروع کر دی- ٍ ہماری کشمیر کی جماعتیں تبلیغ کے معاملہ میں بہت سست نظر آتی ہیں- اس دفعہ بھی اور پہلے بھی جب کبھی میں یہاں آیا یہی دیکھا- یہ عذر درست نہیں کہ ہم ان پڑھ ہیں- ہماری جماعت میں بہت سے ایسے ان پڑھ ہیں جو ایک حرف بھی نہیں جانتے مگر احمدیت کے لئے ایسا جوش رکھتے ہیں کہ سینکڑوں لوگ ان کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہو چکے ہیں- احمدیت کی سچائی کی یہ بھی ایک زبردست دلیل ہے کہ کوئی زمانہ تھا جب مسلمان کہلانے والے عیسائی ہوتے تھے لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور ہوا تو عیسائی اور انگریز لوگ مسلمان ہونے لگے- گویا پہلے اگر شیر بکری کو کھاتے تھے تو اب بکری شیروں کو کھانے لگی اور یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے ہوا- ولایت میں انگریز مسلمان ہو رہے ہیں امریکہ میں امریکن لوگ اسلام قبول کرتے جاتے ہیں- یہی لوگ تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتے تھے مگر اب اسلام قبول کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں- عیسائی پادریوں کو نوٹس دیا گیا ہے کہ وہ احمدیوں سے بات چیت نہ کریں- پادری زویمر جو کسی زمانہ میں مصر میں رہتا تھا اس نے ایک شخص سے سوال کیا جس کا وہ جواب نہ دے سکا- اتفاقاً وہ شخص ہمارے