انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 556

۵۵۶ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کی حیثیت میں نظر آنے والے اسباب وہ ایک مادی خدا کے دربار کی رونق نہیں ہیں بلکہ ایک غیر مادی خدا کے احکام تکوین کی پہلی کڑیاں ہیں اور روحانی اور جسمانی سلسلے پوری طرح ان پر قائم ہیں اور جس طرح بنیاد کے بغیر عمارت نہیں ہو سکتی اسی طرح ملائکہ کے بغیر کائنات کا وجود ناممکن ہے- قانون قدرت کیا ہے؟ آپ نے قانون قدرت کو ایسا قریب الفہم کر دیا کہ مادی عللواسباب کا دیکھنے والا سائنس دان اور عقلی موجبات کی موشگافی کرنے والا فلسفی اور روحانی اثرات پر نگہ رکھنے والا صوفی اور موٹی موٹی باتوں سے نتیجہ نکالنے والا عامی یکساں طور پر تسلی پا گیا- ہر اک نے اسے اپنے اپنے نقطئہ نگاہ سے دیکھا- غور کیا اور اطمینان کا سانس لیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کی تصدیق کر دی کیونکہ مختلف پہلوؤں سے غور کرنے کے بعد جب ایک ہی نتیجہ نکلے تو اس نتیجہ کی صحت میں کوئی شک باقی نہیں رہتا- رسالت اور کلام الہٰی کی ضرورت آپ نے رسالت اور کلام الہی کی ضرورت اور قانون قدرت کی مثالوں سے ثابت کیا وہ خدا جس نے جسمانی آنکھ کے لئے سوج کو پیدا کیا ہے کس طرح ممکن ہے کہ روحانی آنکھ کو کام کرنے کے قابل بنانے کے لئے اس نے روحانی سورج اور روحانی نور پیدا نہ کیا ہو حالانکہ جسمانی آنکھ کا تعلق تو ایک محدود عرصہ سے ہے لیکن روحانی بینائی کا اثر انسان کی تمام آئندہ زندگی پر ہے خواہ اس دنیا کی ہو خواہ اگلے جہاں کی- بعث مابعد الموت بعث ما بعد الموت کے متعلق بھی آپ نے مختلف پیرایوں سے بحث کی اور ایسے رنگ میں اسے پیش کیا کہ وہ ایک خالص علمی مسئلہ کی بجائے ایک عملی مسئلہ بن گیا- انسانی اعمال ایک زبردست جزاء کے طالب ہیں اور وہ جزا اس امر کی مقتضی ہے کہ اسے دوسروں کی نگہ سے مخفی رکھا جائے کیونکہ اس عظیم الشان جزاء کے ظاہر ہو جانے پر انسانی اعمال اختیاری نہیں رہیں گے بلکہ ایک رنگ میں غیر اختیاری ہو جائیں گے- عالم آخرت ایک نئی دنیا نہیں ہے بلکہ اسی دنیا کا ایک تسلسل ہے جس میں مادیات کے اثر سے آزاد ہو کر انسانی روح اسی راستہ پر بلا روک ٹوک چلنا شروع کر دیتی ہے جو اس نے اپنے اعمال کی داغ بیل ڈال کر اپنے لئے تیار کیا تھا خدا تعالیٰ ایک غم و غصہ سے پر بادشاہ نہیں اس کی صفات کے تقاضے نے انسان کو پیدا کیا تھا اور وہی صفات اس امر کی متقاضی ہیں کہ انسان