انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 530

۵۳۰ دبا لیتا ہے- چونکہ گورنمنٹ کا قانون انسانی کلام ہوتا ہے اس لئے اس کا مخالف موافقین کی نسبت اس کی زیادہ باریکیاں سمجھ سکتا ہے- اگر خدا تعالیٰ کا کلام جو برکت اور انعام کے طور پر نازل ہوتا ہے، اسے خدا تعالیٰ سے تعلق نہ رکھنے والے زیادہ عمدگی سے سمجھ سکیں تو وہ برکت کہاں رہے گی- اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آسمانی کتاب کے پرکھنے کا گر بتایا ہے- آسمانی کتاب بطور رحمت، برکت اور نعمت کے نازل ہوتی ہے- اگر غیر لوگ جنہوں نے اس کے احکام کا جوا اپنی گردنوں پر نہیں رکھا، اس کے ماننے والوں سے زیادہ اس کی باریکیاں سمجھ لیں تو معلوم ہوا اس خزانے کو دوسرے لے گئے- اس لئے فرمایا اس خزانہ پر ایسے محافظ ہیں کہ یہ ماننے والوں کے لئے ہی کھلتا ہے، دوسروں کے لئے نہیں- مگر انجیل کو دیکھ لو اس کے مفسر وہی لوگ ہیں جنہیں انجیل کے مطابق روحانیت کے اعلیٰ مدارج حاصل نہیں ہیں، یہی حال ویدوں کا ہے- مگر قرآن کریم کے علوم میں وہی لوگ آگے بڑھے جو تقویٰ اور طہارت میں بھی اعلیٰ تھے- علماء نے قرآن کریم کی جو تفسیریں لکھی ہیں، آج مسلمان انہیں چھپائے پھرتے ہیں تاکہ غیر مذاہب کے لوگ ان کی بناء پر اعتراض نہ کریں- لیکن صوفیاء نے وہ وہ باتیں لکھی ہیں جو اس وقت دنیا کو معلوم نہ تھیں اور اب معلوم ہو رہی ہیں- پہلے کہا جاتا تھا کہ موجودہ دنیا کی عمر پانچ چھ ہزار سال ہے- مگر ابن عربی نے کہا مجھے کشف میں بتایا گیا ہے کہ کئی لاکھ سال سے یہ دنیا ہے اور کئی لاکھ سال سے یہ بنتی چلی آ رہی ہے- اب یورپین لوگ ایولیوشن (EVOLUTION) تھیوری کے ماتحت یہی مان رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے یہ تھیوری ایجاد کی حالانکہ اس کے اصل موجد ابن عربی ہیں- اسی طرح ظاہری علماء یہ کہتے رہے کہ غیر تو غیر جو مسلمان بھی دوزخ میں جائے گا، وہ پھر نہیں نکلے گا مگر ابن عربی کہتے ہیں- خدا کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ شیطان بھی ہمیشہ ہمیش کے لئے دوزخ میں نہیں رہے گا اور قرآن کریم بھی یہی کہتا ہے- پھر عام مفسر تو کہتے رہے کہ سورۃ نجم کی آیات میں شیطان نے یہ فقرات داخل کر دئے تھے- تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجی-۳؎ کہ کچھ دیویاں ایسی ہیں جن کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے- یہ شرک کا کلام شیطان نے(نعوذ باللہ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر قرآن کریم پڑھتے ہوئے جاری کر دیا-