انوارالعلوم (جلد 10) — Page 483
۴۸۳ سے حقیقی رنگ میں ہمدردی رکھنے والا ایک ممبر بھی نہیں- اسی طرح انگریزی پریس کے ایک حصہ پر بھی ہندو اثر رکھتے ہیں- لیکن مسلمانوں نے اس طرف توجہ نہیں کی- اور اس وجہ سے انگلستان کے سیاسی حلقوں میں ہندؤوں کی آواز کو جو اثر حاصل ہے، مسلمانوں کی آواز اس سے محروم ہے- میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایک ہندو عدم تعاونی کو تو ضرورت ہو کہ وہ باوجود عدم تعاون پر عمل کرنے کے شخصی طور پر انگریز مدبرین کو متاثر کرنے کر کوشش کرتا رہے لیکن ایک مسلمان کے لئے یہ کام حرام ہو- زیادہ سے زیادہ ایک عدم تعاونی یہی کہے گا ناکہ انگریز ہمارے دشمن ہیں، لیکن کیا کوئی عقل مند بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ دشمن کے آدمی کو توڑ کر اپنے ساتھ ملانا برا ہے- میں تو انگریزوں کو اپنا دوست ہی سمجھتا ہوں- اور مجھے یقین ہے کہ انگریزوں اور اسلام کا مستقبل روز بروز متحد ہوتا چلا جائے گا- لیکن جو انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ دشمن کے آدمیوں کو توڑ کر اپنے ساتھ ملانے سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہو سکتی ہے- یہ تو جنگ کی حکمتوں میں سے ایک بہترین حکمت ہے- اور جنگی حکمتوں کو ترک کرنے والا خود اپنا ہی نقصان کرتا ہے- مسلمانوں کو نصیحت میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے تمام مسلمانوں کو پھر نصیحت کرتا ہوں کہ یہ وقت ان کے لئے بہت نازک ہے- چاروں طرف سے تاریک بادل امڈے آرہے ہیں- زمانہ مسلمانوں کو ایک اور زخم دینے کو تیار ہے- ایک دفعہ پھر وہ بنیادیں جن پر انہیں عظیم الشان اعتماد تھا، ہل رہی ہیں- وہ عمود جن پر ان کے نظام کی چھتیں رکھی گئی تھیں، متزلزل ہو رہے ہیں- وہ لوگ جنہیں وہ اپنا سپاہی سمجھتے تھے، دشمن کی فوج میں شامل ہو کر ان سے لڑنے پر آمادہ ہیں- ان کی عقل اور ان کی دانش کے امتحان کا وقت پھر آ رہا ہے- خدا پھر دیکھنا چاہتا ہے کہ پچھلی مصیبتوں سے انہوں نے کیا حاصل کیا ہے- اور پچھلے تجربوں نے انہیں کیا فائدہ پہنچایا ہے- پس یہ وقت ہے کہ وہ بیدار ہوں، ہوشیار ہوں، زور دار تحریروں اور لچھے دار تقریروں کی سحرکاریوں سے متاثر ہونے کی بجائے ان آنکھوں سے کام لیں جو خدا نے انہیں دی ہیں- اور ان کانوں سے کام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے- اور اس دل و دماغ سے کام لیں جو ان کے رب نے انہیں بخشا ہے- اور اس بات کے لئے کھڑے ہو جائیں کہ وہ ذلت کی چادر جو انہیں پہنائی جاتی ہے، وہ اسے ہر گز نہیں پہنیں گے- خدا نے مسلمانوں کو معزز بنایا تھا- مگر انہوں نے خود اپنے لئے ذلت خریدی- لیکن اب ان کو چاہئے کہ