انوارالعلوم (جلد 10) — Page 469
۴۶۹ کوئی علم نہیں ہوتا- پس اصل نیابت وہی ہے جو اپنے ہم مذہب کریں تا کہ ہر نئے پیش آمدہ معاملہ میں صحیح نیابت ہو سکے- اور یہ امر اس وقت تک ضروری ہے جب تک کہ قوم کی ایسی حالت نہ ہو جائے کہ سب لوگ مذہب اور پالیٹکس (POLITICS) کو الگ رکھنے کے عادی ہو جائیں- اور تمام اقوام کے تعلقات مضبوط ہو کر ایک ہندوستانی نیشنلٹی (NATIONALITY) پیدا ہو جائے اور اختلاف دور ہو جائے- اور اختلاف بالفاظ پروفیسر ایل- بی- مرے (L۔B MURREY)ایک دن میں اور سچی خواہشات سے دور نہیں ہو سکتا ‘’بلکہ وہ صرف آہستہ آہستہ باہمی روا داری کے ذریعہ سے نسلوں کے بعد دور ہو سکتاہے’‘- مسلمان کا چھٹا مطالبہ مذہب اور تمدن کی حفاظت چھٹے امر کے متعلق مجھے اس جگہ مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ میں مذہب اور تمدن کی حفاظت کے متعلق اپنی مختلف تحریروں میں بہ تفصیل لکھ چکا ہوں- یہاں اس قدر کہہ دینا ضروری ہے کہ تبلیغ مذہب اور تبدیلی مذہب ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد ہونی چاہئے- میرے نزدیک یورپ میں اقلیتوں کی حفاظت کیلئے جو کچھ کیا گیا ہے اس کی ایک مختصرفہرست شاید اس ہیڈنگ کی تفاصیل کیلئے مفید ہوگی- اس لئے میں ذیل میں چند وہ باتیں درج کرتا ہوں جو کہ اقلیتوں کی تہذیب اور ان کے مذہب کی حفاظت کیلئے ضروری سمجھی گئی ہیں- میرے نزدیک قانوناساسی بناتے وقت اور ہندو مسلم سمجھوتے کے وقت انہیں مدنظر رکھ لینا چاہئے- کانگریس آف برلن ۱۸۷۸ء میں رومانیہ کی آزادی کے اعلان کے وقت مسلمانوں اور یہودیوں کی حفاظت کیلئے یہ شرطیں کی گئی تھیں- اول-: مذہب، عقیدہ اور خاص اصول کی وجہ سے کسی کو دیوانی یا فوجداری حقوق سے محروم نہیں کیا جائے گا نہ سرکاری عہدوں، عزتوں یا مجالس سے محروم کیا جائے گا اور نہ مختلف پیشوں اور حرفتوں سے روکا جائے گا- دوم-: مذہبی مجالس کے بنانے یا تنظیم سے یا مذہبی پیشواؤں کی ملاقات سے ملک کے اندر یا باہر نہیں روکا جائے گا- لیگ آف نیشنز (LEAGUEOFNATIONS) کی نگرانی کے ماتحت جو معاہدات