انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 444

۴۴۴ ہے- کیونکہ اچھی حکومت مال اور آرام کو تو بڑھا دے گی، مگر وہ کسی قوم کی کلچر کو نہیں بڑھا سکتی، بلکہ اسے تباہ کر دے گی- کلچر کی ترقی کا موجب صرف اپنی حکومت ہی ہوتی ہے- پس جس طرح ہندو صاحبان اپنی پرانی تاریخ کو پڑھ کر بے چین ہو جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ زمانہ حال کی مناسبت میں وہ اپنی مخصوص کلچر کو نشوونما دیں اور دنیا کے تمدن اور تہذیب میں زیادتی کا موجب ہوں- اسی طرح وہ سمجھ لیں کہ مسلمانوں کا دل بھی ہے- وہ بھی ایک شاندار روایت رکھتے ہیں- وہ بھی ایسے آباء کی اولاد ہیں جن میں اقدام کا مادہ انتہا درجہ کو پہنچا ہوا تھا- ان کی بھی امنگیں ہیں وہ ہندوستان سے علیحدہ نہیں وہ ہندوستانی ہیں- اور کسی سے کم ہندوستانی نہیں لیکن اس میں کیا شک ہے کہ جہاں ہندو عنصر زیادہ ہوگا وہاں حکومت ہندو کلچر اور ہندو فلسفہ پر نشوونما پائے گی- پس وہ بھی چاہتے ہیں کہ بعض صوبوں میں جن میں وہ زیادہ ہیں، انہیں بھی اس امر کا موقع ملے کہ وہ اسلامی کلچر اور تہذیب کے مطابق نشوونما پائیں- میرا یہ مطلب نہیں کہ اسلام کے احکام کو وہ جاری کریں- ایسی مخلوط حکومتوں میں اپنے مذہب کے احکام جاری کرنا درست نہیں نہ ہندوؤں کے لئے نہ مسلمانوں کیلئے- مگر اس کے علاوہ زندگی کے ہزاروں شعبے ہیں جن میں قطع نظر مذہب کے انسان اپنے مخصوص قومی فلسفہ کے مطابق ترقی کرنی چاہتا ہے- اور دنیوی ترقی کے متعلق جو اس کی قوم کی سکیم ہوتی ہے، اس کی پنیری لگاتا ہے اور پھر اس سے باغ تیار کرتا ہے- پس اس چیز کی جائز امنگ اور خواہش مسلمانوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ بھی دو بڑے صوبوں میں ایسا موقع پائیں کہ ایک عرصہ تک بلاوقفہ کے وہ اپنے مخصوص قومیاصول پر ترقی کرنے کی راہ پا سکیں- کیا یہ مطالبہ ناجائز ہے- کیا یہ خواہش غیر طبعی ہے- یا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ آرزو قومیت کی روح کے منافی ہے؟ نہیں ہر گز نہیں- آزاد کلچر متحدہقومیت کو ہر گز نقصان نہیں پہنچاتی- جس طرح ہندوستان کی ڈومینین (DOMINION) حکومت انگلستان کو نقصان نہیں پہنچائے گی- باوجود اس کے کہ وہ ایشیائی کلچر کے نشوونما دینے میں ایک بہت بڑی لیبارٹری (LABORATORY) ثابت ہوگی- افسوس ہے کہ نہرو رپورٹ خواہ اور کچھ بھی ہو، مسلمانوں کی اس خواہش کا علاج مہیا نہیں کرتی- وہ خواہ اس کا دروازہ کھولتی ہے کہ کبھی مسلمان پنجاب اور بنگال میں ہندوؤں پر بالکل غالب آ جائیں مگر اس کا انتظام نہیں کرتی کہ انہیں ایک عرصہ تک اس امر کا موقع ملے کہ اپنی روایات کے مطابق عمل کر کے دنیا کی تہذیب کے مجموعی خزانہ میں اپنا حصہ بھی شامل کر سکیں- کیونکہ کلچر بغیر متواتر موقع پانے