انوارالعلوم (جلد 10) — Page 434
۴۳۴ بڑھ جائیں گے اور چھیاسی مسلمان منتخب ہو جائیں گے- یہ اعداد اپنی حقیقت کو خود ظاہر کر رہے ہیں- مسلم لیگ کا مطالبہ ایک سو چھیاسٹھ نشستوں کا تھا- اس وقت گورنمنٹ نے جو حق دیا ہے اس کی رو سے ڈیڑھ سو نشستیں مسلمانوں کو مل رہی ہیں- آبادی کے لحاظ سے سوا سو انہیں ملنی چاہئیں- نہرو رپورٹ کا اندازہ ہے کہ ہمارے اصول کے مطابق چھیاسی نشستیں انہیں ملیں گی- خود ہی غور کر لو کہ یہ تغیر مسلمانوں کو کہاں سے کہاں لے جائے گا- یاد رکھنا چاہئے کہ نہرو رپورٹ ہندوؤں کی تیار کردہ ہے- جو اپنا پورا زور اس امر پر لگا رہے ہیں کہ مسلمانوں کو مطمئن کریں- پس جب ان کا یہ اندازہ ہے تو دوسرے اندازے ان کے مقابلہ میں کہاں ٹھہر سکتے ہیں- یہ کہنا کہ مسلمان جن علاقوں میں کم ہیں- ان میں اپنے مقرر کردہ حق سے زائد لے لیں گے، کم سے کم نہرو رپورٹ کے لکھنے والوں کی رائے کے خلاف ہے کیونکہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ-: ‘’ان صوبوں میں کہ جہاں مسلمان سات فی صدی سے بھی کم ہیں- )بمبئی، مدراس، وسطی صوبہ برما وغیرہ) وہاں اس امر کا کوئی احتمال نہیں کہ ایک مسلمان بھی )مرکزی پارلیمنٹ کیلئے) منتخب ہو سکے’‘- ۵۲؎ اور یوپی- اور بہار میں شاید ایک دو نشستیں حاصل کر لیں- اب بھلا کوئی بھی عقلمند اس امر کو تسلیم کر سکتا ہے کہ بمبئی، مدراس، برما اور وسطی صوبہ کے سب کے سب مسلمان تو ایک مسلمان ممبر کا انتخاب بھی اپنے اپنے حلقہ سے نہ کر سکیں- لیکن محفوظ نشستوں پر جب ان کے ووٹ ختم ہو جائیں تو پھر وہ ہندوؤں سے بھی ان کا حق چھیننے پر تیار ہو جائیں- یہ ظاہر ہے کہ ان صوبوں میں مسلمانوں کو محفوظ نشستیں انہی علاقوں میں دی جائیں گی جہاں ان کی آبادی زیادہ ہوگی اور ان کے اکثر ووٹ انہی ممبروں کے چننے پر خرچ ہو جائیں گے- اور شاید باقی صوبہ میں کل مسلمان ووٹوں میں سے دس پندرہ فی صدی ووٹ رہ جائیں تو کونسی عقل اس کو باور کر سکتی ہے کہ سب کے سب ووٹ تو اپنا جائز حق بھی لینے پر قادر نہ تھے- لیکن بچے کھچے ووٹ ہندوؤں کا بھی جو ترانوے فی صدی ہونگے حق چھین لیں گے- پس یہ امر ظاہر ہے کہ جن صوبہ جات میں مسلمان کم ہیں نہرو رپورٹ اندازہ کرتی ہے کہ وہاں مسلمان اپنے حق سے ہر گز زیادہ نیابت حاصل نہیں کر سکتے- باقی رہے پنجاب اور بنگال سو اس کا حال وہ خود ہی بتا چکے ہیں کہ تیس چالیس نشستیں مسلمانوں کو ملیں گی حالانکہ آبادی کے لحاظ