انوارالعلوم (جلد 10) — Page 398
۳۹۸ سے نکال دینے کے طریق ہیں- لیکن یہی بات زیادہ مہذب طریقوں سے بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے- جن میں سے )اکثریتوں میں( زیادہ مقبول مادری زبان کے آزادانہ استعمال سے روک دینے کا طریق ہے- تعلیم کے قوانین تجارت کے قوانین اور انصاف کے قائم کرنے کے قوانین اس مقصد کو پورا کرنے کے بڑے کھلے کھلے ذرائع ہیں’‘- ۳۵؎ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں اکثریتیں اقلیتوں پر مہذبانہ طور پر ظلم کرتی ہیں- اور ایسے قوانین بنا کر نقصان پہنچاتی ہیں جو بظاہر یکساں ہوتے ہیں لیکن ان کا نتیجہ صرف ایک قوم کی تباہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے- پس ہندوستان کا قانون اساسی بناتے وقت صرف یہ دیکھنا کافی نہ ہوگا کہ قوانین ہندومسلمانوں کے لئے برابر ہیں- بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان قوانین کا ہندوؤں پر کیا اثر پڑتا ہے اور مسلمانوں پر کیا- اگر یہ ثابت ہو جائے کہ بظاہر برابر نظر آنے والے قوانین باطن میں مسلمانوں کے لئے مضر ہیں، خواہ اس لحاظ سے کہ مسلمانوں کو ان سے کوئی نقصان پہنچتا ہے، خواہ اس لحاظ سے کہ ان کی وجہ سے مسلمان اپنے جائز حقوق کے حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو ان کا بدلنا ضروری ہوگا- صرف صحیح قانون بنا دینا قیام انصاف کیلئے کافی نہیں دوسرا پہلو اس سوال کا یہ ہے کہ اگر ایسا قانون بنا دیا جائے کہ جس میں ہر قوم کی ضرورت کا لحاظ رکھا جائے تو کیا یہ کافی نہ ہوگا اور کیا اس سے انصاف قائم نہ ہو جائے گا؟ میرا جواب اس سوال کے متعلق بھی یہی ہے کہ ہر گز نہیں- کوئی قوم صرف باانصاف قوانین کے پاس ہو جانے سے محفوظ نہیں ہو جاتی- بلکہ اس کے لئے دو اور باتوں کی ضرورت ہوتی ہے-(۱)اس انتظام کی کہ اس قانون پرعمل کرتے وقت بھی اس امر کی نگرانی ضروری ہوگی کہ اس قانون پر اس کے منشاء کے مطابق عمل کیا جاتا ہے یا نہیں؟ بہتر سے بہتر قانون پر اگر عمل نہ کیا جائے تو اس سے کیا فائدہ- ایک ڈاکٹر ہسپتال میں کونین کے ڈبے رکھ چھوڑے لیکن مریضوں کو نہ دے تو انہیں کیا نفع ہوگا- قانون اپنی ذات میں کچھ بھی چیز نہیں- عمدہ قانون کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسے اچھی طرح استعمال بھی کیا جائے- قانون کا صحیح نتیجہ اس کے صحیح استعمال پر مبنی ہوتا ہے- پس اگر اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت