انوارالعلوم (جلد 10) — Page 299
۲۹۹ ہو- پھر چچا ہو اور محسن چچا ہو، اس کی بات کو جو اس نے سخت تکلیف کی حالت میں کہی ہو رد کرنے سے احساسات کو کس قدر ٹھیس اور صدمہ پہنچ سکتا ہے- چنانچہ قدرتاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس مصیبت سے صدمہ پہنچا- ایک طرف ایک زبردست صداقت کی حمایت- دوسری طرف اپنے محسنوں کی جان کی قربانی- ان متضاد تقاضوں کو دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے- لیکن آپ نے فرمایا کہ اے چچا- میں آپ کے لئے ہر ایک تکلیف اٹھا سکتا ہوں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ میں خدا تعالیٰ کی توحید کا وعظ اور شرک کی مذمتوں کا وعظ چھوڑ دوں- پس آپ بے شک مجھ سے علیحدہ ہو جائیں اور مجھے اپنے حال پر چھوڑ دیں- کوئی اور ہوتا تو یہ سمجھتا کہ دیکھو میں نے اس پر اس قدر احسان کئے ہیں- مگر باوجود اس کے یہ میری بات نہیں مانتا- مگر ابوطالب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو جانتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ آپ اس قدر احسان کی قدر کرنے والے ہیں کہ اس وقت میری بات کو رد کرنا ان کے اخلاق کے لحاظ ایک بہت بڑی قربانی ہے اور جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں وہ اپنے نفس کے لئے نہیں ہے- بلکہ صرف اپنی قوم کی بہتری اور اسے گمراہی سے نکالنے کے لئے ہے- پس وہ بھی آپ کی اس قربانی سے متاثر ہوئے اور بے اختیار ہو کر کہا کہ میرے بھتیجے تو جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے جا اور اپنا کام کر- میں اور میرے دوسرے رشتہ دار تیرے ساتھ ہیں اور تیرے ساتھ مل کر ہر ایک تکلیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں- رشتہ داروں کے جذبات کی قربانی یہ قربانی اپنے جذبات کی قربانی سے بھی مشکل ہوتی ہے- لوگ اپنے جذبات تو مار سکتے ہیں- لیکن اپنے عزیزوں کے جذبات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں- کئی ماں باپ خود معمولی کپڑے پہنتے ہیں- لیکن بچوں کو اعلیٰ کپڑے پہناتے ہیں- خود معمولی کھانا کھاتے ہیں مگر اپنے بچوں کو اعلیٰ کھانے کھلانے کی کوشش کرتے ہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں پر نظر مارنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے جذبات ہی کو دائمی صداقتوں کے قیام اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے قربان نہیں کیا- بلکہ اپنے رشتہ داروں کے جذبات کو بھی قربان کر دیا ہے- اس کی مثالوں میں سے ایک مثال یہ ہے کہ ایک دفعہ مسلمانوں کو بہت بڑی فتح ہوئی اور مسلمانوں کی آسودگی کے سامان پیدا ہو گئے- تو آپ کی پیاری بیٹی فاطمہؓ نے آپ سے کہا کہ کام کرتے کرتے میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں- چھوٹے چھوٹے بچے ہیں لوگوں کو اتنے اموال اور نوکر