انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 294

۲۹۴ میں اس کے کم کرنے یا بند کرنے کا انتظام ہو رہا ہے- چنانچہ امریکہ والوں نے قانوناً اسے منع کر دیا ہے- ہمارے ملک کے لوگ بھی اس کی ممانعت پر زور دے رہے ہیں اور گو گورنمنٹ نے ابھی تک انکی اس بات کو تسلیم نہیں کیا لیکن امید ہے کہ مسلمانوں، ہندوؤں اور مسیحیوں کی کوشش جاری رہی تو گورنمنٹ بھی تسلیم کر لے گی- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیاں اب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض قربانیوں کا ذکر کرتا ہوں- لیکن اس سے پہلے میں قربانی کی حقیقت کے متعلق کچھ تشریح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ آپ لوگ سمجھ سکیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیاں کس شان کی تھیں- قربانی کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ اصل قربانی یہ نہیں ہے کہ انسان سے کوئی چیز زبردستی چھین لی جائے- بلکہ یہ ہے کہ لوگوں کے نفع کے لئے ایسے حالات میں قربانی دی جاوے کہ اس سے بچنا انسان کے اختیار میں ہو دنیا میں ہزاروں لوگ ہر روز مرتے ہیں- مگر کوئی نہیں کہتا کہ وہ قربانی کرتے ہیں- ہزاروں لوگ ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں- مگر کوئی نہیں کہتا کہ وہ قربانی کرتے ہیں- اور اس کی یہی وجہ ہے کہ موت انسان کے اختیار میں نہیں ہے- اور ملک چھوڑنے والے لوگوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے فائدہ کے لئے ملک چھوڑتے ہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کو آپ لوگ دیکھیں گے کہ وہ ایسی ہی ہیں کہ جن کو آپ نے اپنی مرضی سے پیش کیا اور لوگوں کے نفع کے لئے پیش کیا نہ کہ اپنے کسی فائدہ کے لئے- دائمی عمل پھر سچی قربانیوں کی بھی کئی قسمیں ہیں- ایک وہ قربانی ہے جو وقتی ہوتی ہے اور دوسری وہ جو دائمی ہوتی ہے دائمی قربانی اعلیٰ ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں میں یہی رنگ پایا جاتا ہے بلکہ آپ کی نسبت روایت ہے کہ آپ ہمیشہ تاکید فرماتے تھے کہ وہی نیک کام اچھے ہوتے ہیں جو دائمی ہوں- پس ہمیشہ جب نیکی شروع کرو تو اسے ہمیشہ قائم رکھنے کی کوشش کرو- قربانیوں کی مزید اقسام قربانی کی ان دونوں قسموں کی آگے پھر دو قسمیں ہیں- ایک قربانی جسے دوسرے وصول کرتے ہیں- (۲) وہ قربانی جسے انسان خود پیش کرتا ہے- پہلی قسم کی قربانی یہ ہے کہ مثلاً لوگ اسے اس لئے ماریں کہ وہ صداقت کو چھوڑ