انوارالعلوم (جلد 10) — Page 291
۲۹۱ کی آپ نے قدر کی- اور ان کی نیت کا لحاظ رکھتے ہوئے مسجد میں جو ذکر الہی کے لئے ہوتی ہے اپنی عبادت بجا لانے کی اجازت دی- جنگ کے حدود دنیا میں ایک باعث فساد کا یہ بھی ہوتا ہے کہ جب کسی نہ کسی وجہ سے فساد پیدا ہو جائے تو لوگ اسے قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وجہ فساد کو بھی دور فرمایا اور جنگ میں بھی حدود قائم کر دی ہیں- چنانچہ خدا تعالیٰ سے حکم پا کر آپ نے فرمایا ہے کہ فان انتھوا فان اللہ غفور رحیم ۳۱؎کہ جب لڑائی ہو رہی ہو اور لڑنے والا دشمن لڑائی چھوڑ دے- تو پھر اس سے لڑنا جائز نہیں ہے- کیونکہ یہ ایک قسم کی ندامت ہے اور اللہ تعالیٰ نادم کی ندامت کو ضائع نہیں کرتا- بلکہ بخشش سے کام لیتا ہے اور رحم کرتا ہے- اسی طرح فرمایا کہفلا عدوان الا علی الظلمین ۳۲؎ سزا انہی کو دی جاتی ہے جو ظلم کر رہے ہوں جو اپنی شرارت سے باز آ جائیں انہیں پچھلے قصوروں کی وجہ سے برباد نہیں کرتے جانا چاہئے- حُرّیتِ ضمیر آٹھواں احسان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہے کہ آپ نے حریت ضمیر کے اصل کو قائم کیا ہے- علمی ترقی کی جڑ حریت ضمیر ہے- شک پیدا ہو اور اس شک کے مطابق تحقیق کی جائے اور جو صحیح نتیجہ نکلے اس کے مطابق اپنے خیال اور اپنے اعمال کو بدلا جائے یہی سب ترقیات کی کنجی ہے- جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے ہیں اس وقت عرب خصوصاً اور دوسرے ممالک کے لوگ عموماً حریت ضمیر کی قدر نہ جانتے تھے- اس وقت قرآنکریم نے اعلان کیا کہ لا اکراہ فی الدین قدتبین الرشد من الغی ۳۳؎ دین کے بارہ میں کچھ جبر نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ہدایت اور گمراہی میں خدا تعالیٰ نے نمایاں فرق کر کے دکھا دیا ہے پس جو سمجھنا چاہئے وہ دلیل سے سمجھ سکتا ہے اس پر جبر نہیں ہونا چاہئے- ایک دفعہ عربوں نے خواہش کی کہ آپ سے سمجھوتہ کر لیں اور وہ اس طرح کہ ہم اللہ کی پرستش کرنے لگ جاتے ہیں اور تم بتوں کی پرستش شروع کر دو- اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق فرمایا کہ لکم دینکم ولی دین ۳۴؎ جب میں بتوں کو جھوٹا سمجھتا ہوں تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں اپنے ضمیر کو قربان کر کے ان کی پرستش کروں اور تم واحد خدا کو نہیں مانتے تو تم اس کی پرستش کس طرح کر سکتے ہو- تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور ہمارے لئے ہمارا-