انوارالعلوم (جلد 10) — Page 289
۲۸۹ امریکہ یا افریقہ کے فلاں علاقہ میں خدا کا کوئی برگذیدہ گذرا ہے تو ہم کہیں گے ٹھیک ہے- قرآن نے اس کا علم پہلے ہی دے دیا تھا کہ ہر قوم میں ہادی گذرے ہیں- پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تعلیم کے ذریعہ سے قیام امن کا ایک دروازہ کھول دیا ہے- کسی کی قابل عزت چیز کو بُرا نہ کہو (ب) دوسری وجہ لڑائی جھگڑوں کی یہ ہوتی ہے کہ انسان کسی قوم کے بزرگوں کو تو برا بھلا نہیں کہتا- لیکن اس کے اصولوں کو برا کہتا ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس فعل سے بھی روکا ہے- آپ کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے اعلان کیا ہے کہ لا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم کذلک زینا لکل امہ عملھم ثم الی ربھم مرجعھم فینبئھم بما کانوا یعملون ۲۹؎ ٍ فرمایا وہ چیزیں جنہیں دوسرے مذاہب والے عزت و توقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں- جیسے بت وغیرہ- ان کو بھی گالیاں مت دو- گو تمہارے نزدیک وہ چیزیں درست نہ ہوں- مگر پھر بھی تمہارا حق نہیں ہے کہ انہیں سخت الفاظ سے یاد کرو- کیونکہ اس طرح ان لوگوں کے دل دکھیں گے اور پھر لڑائی اور فساد پیدا ہوگا اور وہ بھی بغیر سوچے تمہارے اصول کو برا بھلا کہیں گے اور خدا تعالیٰ کو ضد میں آ کر گالیاں دیں گے- یہ کتنی اعلیٰ تعلیم ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے دوسرے مذاہب کے جو بزرگ سچے تھے- ان کے متعلق تو فرمایا کہ انہیں مان لو- اور جو چیزیں سچی نہ تھیں، ان کے متعلق کہہ دیا کہ انہیں بُرا بھلا نہ کہو- ہر مذہب میں خوبی (ج) تیسری بات لڑائی فساد پیدا کرنے والی یہ ہوتی ہے کہ ہر مذہب والا دوسرے مذہب کے متعلق کہتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹا ہے- اس میں کوئی خوبی نہیں ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے فرمایا- وقالت الیھود لیست النصری علی شی وقالت النصاری لیست الیھود علی شی وھم یتلون الکتب- کذلک قال الذین لایعلمون مثل قولھم- فاللہ یحکم بینھم یوم القیمہ فیما کانوا فیہ یختلفون- ۳۰؎ فرمایا کیسا اندھیر مچ رہا ہے- یہودی کہتے ہیں عیسائیوں میں کوئی خوبی نہیں اور عیسائی کہتے ہیں یہودیوں میں کوئی خوبی نہیں- حالانکہ یہ دونوں کتاب الہٰی پڑھتے ہیں یعنی جب کتاب الہٰی