انوارالعلوم (جلد 10) — Page 279
۲۷۹ غلام رہ جائے وہ اس طرح آزاد ہو جائے- اور پھر اسی پر بس نہیں کی- آخر یہ بھی حکم دے دیا کہ حکومت کے مال میں غلاموں کا بھی حق ہے حکومت کو چاہئے کہ ایک رقم ایسی مقرر کرے جس سے وہ غلام آزاد کراتی رہے- اب سوچو کہ غلامی تو ہر ملک میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہی پائی جاتی تھی- آپ نے تو جاری نہیں کی- آپ نے جو کچھ کیا وہ یہ کیا کہ اس کا دائرہ محدود کر دیا- اور پھر ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ عملاً غلام آزاد ہی ہو جائیں- مگر باوجود اس کے اگر اسلام کے ابتدائی زمانہ میں غلام باقی رہ گئے تھے تو اس کی صرف اور صرف یہ وجہ تھی کہ اسلامی احکام کے ماتحت ان سے آقا ویسا ہی سلوک کرنے پر مجبور تھا جیسے کہ اپنے نفس یا اپنے عزیزوں سے وہ کرتا تھا- اور غریب غلام جانتے تھے کہ ایک مسلمان کا غلام رہ کر اگر ان پر سودوسو یا ہزار دو ہزار روپیہ خرچ ہوتا ہے، تو آزاد رہ کر وہ سات آٹھ روپیہ سے زیادہ نہ کما سکیں گے اور اس میں انہیں اپنا کنبہ پالنا پڑے گا- پس بہت سے تھے جو اس غلامی میں آزادی سے زیادہ آسائش پاتے تھے اور اسلامی احکام سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی تنگ حالت کو بدلنا نہیں چاہتے تھے- پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غلامی کے قائم کرنے والے نہیں تھے- بلکہ غلامی کے مٹانے والے تھے اور آپ سے بڑھ کر غلامی کے مٹانے میں اور کسی نے حصہ نہیں لیا- بلکہ آپ کے کام سے ہزارواں حصہ کم بھی کسی نے کام نہیں کیا- رسول اللہﷺ کے احسانات اب میں آپ کے احسانات کی طرف آتا ہوں- لیکن احسانات بیان کرنے سے پہلے میں ایک واقعہ بیان کر دیتا ہوں جو احسانات اور قربانیوں دونوں کے متعلق کام آئے گا- یہ واقعہ مکہ کا ہے- عتبہ جو ایک بڑا سردار تھا، آپ کے پاس آیا اور آ کر کہنے لگا- کیا تمہیں یہ اچھا لگتا ہے کہ آپس میں خونریزی ہو اور بھائی بھائی سے جدا ہو جائیں- اگر نہیں تو میں ایک تجویز پیش کرتا ہوں، اسے مان لو- وہ تجویز یہ ہے کہ تمہاری کوئی نہ کوئی غرض ہے- اگر تمہیں مال حاصل کرنے کی خواہش ہے تو ہم سب اپنے اموال کا ایک حصہ تمہیں دینے کے لئے تیار ہیں- اس طرح تم بہت بڑے مالدار بن جاؤ گے- اور اگر اس بات کی خواہش ہے کہ حکومت حاصل ہو تو ہم سب اس بات کے لئے تیار ہیں کہ تمہیں اپنا سردار بنائیں- اور اگر خوبصورت عورت چاہتے ہو تو جس عورت کو پسند کرو وہ ہم تمہیں دینے کے لئے تیار ہیں- اور اگر تم بیمار ہو تو بھی