انوارالعلوم (جلد 10) — Page 278
۲۷۸ اس وقت تھے اور نہ ان کو غلامی سے کچھ تعلق ہے اور نہ انہوں نے غلاموں کے آزاد کرانے میں کبھی بھی کوئی حصہ لیا ہے- وہ غلامی کے متعلق آپ پر اعتراض کرتے ہیں- اس عملی کام کے علاوہ اس امر پر بھی غور کرنا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے غلامی کا رواج تھا اور کوئی ملک غلامی سے پاک نہ تھا- ہندوستان میں مجھے نہیں معلوم دوسری قسم کی غلامی تھی یا نہ تھی- مگر اچھوت اقوام سب کی سب غلام ہی ہیں وہ اعلیٰ پیشوں سے محروم ہیں اور ان کا فرض ہی برہمنوں کی خدمت مقرر کیا گیا ہے- فرق صرف یہ ہے کہ دوسرے لوگوں میں غلاموں کو کھانا کپڑا دینے کا رواج تھا- یہاں جن لوگوں نے غلامی کا رواج دیا تھا- انہوں نے کھانے کپڑے سے بھی دست برداری دے دی تھی اور غلام کا فرض مقرر کیا تھا کہ وہ اپنے لئے بھی کمائے اور برہمنوں کی بھی خدمت کرے- ایران اور روم بھی غلامی میں ایک دوسرے سے بڑھے ہوئے تھے- ان ممالک کے لوگوں نے غلامی کے دور کرنے کا کیا علاج مقرر کیا تھا، کچھ بھی نہیں- یہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین تھا جس نے یہ قانون بنایا کہ ہر آزاد کو قید کرنے والا قتل کا مجرم سمجھا جائے گا- پھر یہ شرط لگائی کہ غلام بنانا صرف اس جنگ میں جائز ہے جو جنگ کہ دشمن اسلام صرف اس لئے کریں کہ مسلمانوں سے تلوار کے زور سے اسلام چھڑوائیں- حالانکہ اس تعلیم سے پہلے تمام ممالک میں سیاسی جنگوں کے قیدیوں کو بھی غلام بنایا جاتا تھا- پھر یہ شرط لگا دی کہ ایسی مذہبی جنگ میں بھی جو قید ہو اس کے ساتھ وہی سلوک کرو جو اپنے گھر کے لوگوں سے کرتے ہو- جو کھاتے ہو وہ کھلاؤ جو پیتے ہو وہ پلاؤ، جو پہنتے ہو وہ پہناؤ- پھر یہ شرط کی کہ باوجود اس خاطر کے ہر اک غلام کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ جب وہ چاہے آزاد ہو جائے- ہاں چونکہ وہ ایک ظالمانہ جنگ میں شریک ہوا ہے- اس لئے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی لیاقت کے مطابق خرچ جنگ ادا کر دے یا اس کے رشتہ دار کر دیں- پھر یہ شرط لگا دی کہ اگر غلام کے رشتہ دار یا اہل ملک اس کو نہ چھڑوا سکیں اور اس کے پاس روپیہ نہ ہو تو ہر غلام کا حق ہے کہ وہ کہہ دے کہ میں آزاد ہونا چاہتا ہوں اور اس کا آقا مجبور ہو گا کہ اس کی طاقت کے مطابق خرچ جنگ اس پر ڈال دے اور اسے نیم آزاد کر دے کہ وہ اپنی کمائی سے قسط وار روپیہ ادا کر کے اپنے آپ کو آزاد کرائے اور جس وقت یہ قسط مقرر ہو، اسی وقت سے غلام کو عملاً آزادی حاصل ہو جائے- پھر یہ حکم دیا کہ جو غلام کو مارے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کا غلام آزاد سمجھا جائے- پھر کئی گناہوں کا کفارہ غلاموں کو آزاد کرنا مقرر کیا تاکہ جو کوئی