انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 248

۲۴۸ کرنے کے لئے یہ بہت قیمتی چیز ہمیں مل گئی ہے- پھر درخواست کی ہے کہ ہر سال ایسے جلسے ہونے چاہئیں- اسی طرح تھیوسافیکل سوسائٹی نے مدراس میں جلسہ کرانے کا ذمہ لیا ہے- پھر لاہور میں بڑے بڑے آدمیوں نے اس جلسہ کے اعلان پر دستخط کئے ہیں جیسے لالہ دنی چند صاحب جو بہت بڑے کانگریسی لیڈر ہیں- پھر سکھوں کے بہت بڑے لیڈر سردار کھڑک سنگھ صاحب نے کہا ہے کہ اگر اس دن میں امرتسر میں ہوا تو وہاں کے جلسہ میں اور اگر سیالکوٹ میں ہوا تو اس جگہ جلسہ میں شامل ہوں گا- غرض اس تحریک کو مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم قوموں نے بھی احترام کی نظر سے دیکھا ہے اور نہ صرف احترام کی نظر سے دیکھا ہے بلکہ خواہش کی ہے کہ ایسے جلسے ہمیشہ ہونے چاہئیں تا کہ تفرقہ دور ہو اور میں سمجھتا ہوں اگر اس سال یہ تحریک کامیاب ہوئی تو لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ امن قائم کرنے کے لئے نہایت مفید تحریک ہے- اور آئندہ ہر قوم اسے زیادہ سے زیادہ کامیاب بنانے کی کوشش کرے گی- پس اس تحریک کو کامیاب بنانے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ ہم اس مقصد کو پا لیں جو کہ ایک ہی جیسا ہندوؤں کو بھی پیارا ہے- اور مسلمانوں کو بھی ہے اور وہ ہندوستان کا امن اور ترقی ہے- ۱۷ جون کے لیکچروں کی بنیاد اس تمہید کے بعد میں اپنے مضمون کی طرف آتا ہوں- میں نے اس وقت ایک آیت پڑھی ہے جو یہ ہے-قل ان صلوتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العلمین- لا شریک لہ و بذالک امرت و انا اول المسلمین- اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ دعویٰ پیش کیا گیا ہے- جس پر میں نے آج کے لئے لیکچر رکھے ہیں- آج کے لیکچر کے میں نے تین موضوع قرار دیئے ہیں- (۱) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات (۲) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیاں (۳) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تقدس اس آیت میں یہ تینوں امور ہی بیان کئے گئے ہیں- گویا یہ ہیڈنگ (HEADING) میں نے اپنے پاس سے نہیں رکھے بلکہ قرآن کریم نے پیش کئے ہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا تعالیٰ نے کہلایا ہے کہ تیرے ذریعہ دنیا پر احسان کئے گئے ہیں- تجھ سے دنیا کے لئے