انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 237

۲۳۷ عورتوں کو غلامی سے نجات دلانے والا نبیؐ جس طرح باپ۔گو مختلف حالات اور ذمہ داریوں کے لحاظ سے کبھی باپ کے برابر اور کبھی کم حصہ اسے ملے گا۔وہ اپنے خاوند کے مرنے پر اس کے مال کی بھی وارث ہوگی خواہ اولاد ہو یا نہ ہو کیونکہ اسے دوسرے کا دستِ نگر نہیں بنایا جا سکتا۔اس کی شادی ہے ک ایک پاک اور مقدس عہد ہے جس کا توڑنا بعد اس کے کہ مرد اور عورت نے ایک دوسرے سے انتہائی بے تکلّفی پیدا کر لی، نہایت معیوب ہے۔لیکن یہ نہیں کہ اگر عورت اور مرد کی طبیعت میں خطرناک اختلاف ثابت ہو یا مذہبی جسمانی، مالی، تمدنی، طبی مغائرت کے باوجود انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ اس عہد کی خاطر اپنی عمر کو برباد کر دیں اور اپنی پیدائش کے مقصد کو کھو دیں۔جب ایسے اختلافات پیدا ہو جائیں اور مرد اور عورت متفق ہوں کہ اب وہ اکٹھے نہیں رہ سکتے تو وہ اس معاہدہ کو بہ رضا مندی باطل کر دیں۔اور اگر مرد اس خیال کا ہو اور عورت نہ ہو تو آپس میں اگر کسی طرح سمجھوتہ نہ ہو سکے تو ایک پنچایت ان کے درمیان فیصلہ کرے جس کے دو ممبر ہوں ایک مرد کی طرف سے اور ایک عورت کی طرف سے پھر اگر وہ فیصلہ کریں کہ ابھی عورت اور مرد کو اور کچھ مدت مل کر رہنا چاہئے تو چاہئے کہ ان کے بتائے ہوئے طریق پر مرد اور عورت مل کر رہیں۔لیکن جب اس طرح بھی اتفاق نہ پیدا ہو تو مرد عورت کو جُدا کر سکتا ہے۔لیکن اس صورت میں اس نے جو مال اسے دیا ہے وہ اسے واپس نہیں لے سکتا۔بلکہ مہر بھی اسے پورا ادا کرنا ہو گا۔بر خلاف اس کے اگر عورت مرد سے جُدا ہونا چاہئے، تو وہ قاضی سے درخواست کرے اور اگر قاضی دیکھے کہ کوئی بد اخلاقی کا محرک اس کے پیچھے نہیں ہے تو وہ اسے اس کی علیحدگی کا حکم دے اور اس صورت میں اسے چاہئے کہ خاوند کا ایسا مال جو اس کے پاس محفوط ہو یا مہراسے واپس کر دے۔اور اگر عورت کا خاوند اس کے حقوق مخصوصہ کو ادا نہ کرے یا اس سے کلام وغیرہ چھوڑ دے یا اس کو الگ سُلگائے تو اس کی مدت مقرر ہونی چاہئے۔اور اگر وہ چار ماہ سے زائد اس کام کا مرتکب ہو تو اسے مجبور کیا جائے کہ یا اصلاح کرے یا طلاق دے۔اور اگر وہ اس کو خرچ وغیرہ وینا بند کر دے یا کہیں چلا جائے اور اس کی خبر نہ لے تو اس کا نکاح فسخ قرار دیا جائے (تین سال تک کی مدت فقہائے اسلام نے بیان کی ہے) اور اسے آزاد کیا جائے کہ وہ دوسری جگہ نکاح کر لے اور ہمیشہ خاوند کو اپنی بیوی اور بچوں کے خرچ کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔خاوند کو اپنی بیوی کو مناسب تنبیہہ کا اختيار ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ جب وہ تنبیہہ سزا کا رنگ اختیار کرے تو اس پر لوگوں کو گواہ مقرر کرے اور