انوارالعلوم (جلد 10) — Page 229
۲۲۹ ہندوؤں، سکھوں اور یورپین کا انتخاب ہو چکا ہے اور ان کے ووٹ آزاد ہو چکے ہیں تو کیا وہ اپنے ووٹوں کے زور سے ایسے تین مسلمانوں کا انتخاب نہ کرا دیں گے جو مسلمانوں کے لئے مضر ہوں گے اور ان کی رہی سہی طاقت بھی ٹوٹ جائے گی- غرض ہمیں پورا فیصلہ کرنے سے پہلے ان تین سوالوں پر غور کر لینا چاہئے- ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مسلمان اس کمیٹی میں شامل ہی نہ ہوں- لیکن میں اس کی تائید نہیں کر سکتا کیونکہ یہ نمائندے عدم تعاونیوں کے نہیں ہیں بلکہ تعاون کرنے والوں کے ہیں اور عدم تعاون کی پالیسی کا اختیار کرنا ان کے لئے جائز نہیں- علاوہ ازیں یہ عقل کے بالکل بر خلاف ہوگا کہ ہم دو ممبریوں پر ناراض ہو کر جب کہ یہ دو ممبریاں ہماری ہی غلطی کے سبب سے ملیں بالکل ہی شمولیت نہ کریں اور میدان بالکل ہندوؤں کے ہاتھ میں چھوڑ دیں- اور خصوصاً اس صورت میں جب کہ فیصلہ کثرت رائے پر نہیں ہے بلکہ فیصلہ ولایت کی پارلیمنٹ کے ہاتھ میں ہے- پس اس غلطی پر جو ہو چکی افسوس کرتے ہوئے کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ جو کچھ ہمیں حاصل ہوا ہے اس سے بہتر سے بہتر کام لیں اور اپنی تعداد کی کمی کو اپنی محنت اور خیر خواہی اور خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کر کے پورا کرنے کی کوشش کریں- ایک جلسہ کی ضرورت میرے نزدیک اس وقت بہتر سے بہتر پالیسی یہ ہوگی کہ جو لوگ اس وقت سائمن کمیشن (SIMONCOMMISSION) میں جانے کی تائید میں ہوں ان کے مختلف الخیال گروہوں کے سربرآوردہ اصحاب کا ایک جلسہ کیا جائے اس میں کونسل کے نمائندے بھی ہوں اور مقتدر اسلامی اخبارات کے نمائندے بھی- اس جلسہ میں حالت موجودہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا جائے- اور سب حالات جو موجودہ حالت کے پیدا کرنے کا موجب ہوئے ہیں ان کو بھی معلوم کیا جائے- اور پھر اس نتیجہ پر پہنچنا چاہئے کہ اب اسلامی فوائد کے لئے کونسا طریق زیادہ مفید ہوگا- اگر یہی ثابت ہو کہ اسلامی فوائد کے لئے یہی مفید ہوگا کہ کوئی مسلمان ممبر شامل نہ ہو تو میں یقین دلاتا ہوں کہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب بہ خوشی استعفیٰ دے دیں گے- اور میں کامل امید رکھتا ہوں کہ سردار سکندرحیاتخان صاحب اور چوہدری چھوٹو رام صاحب بھی ایسا ہی کریں گے کیونکہ ان لوگوں کا پرانا رویہ ہر طرح اطمینان کا یقین دلاتا ہے- اس عرصہ میں ہمیں یہ بھی معلوم کر لینا چاہئے کہ اب جب کہ کونسل کے اجلاس ختم ہو چکے ہیں اور انتخاب کا فیصلہ ہو چکا ہے گورنمنٹ