انوارالعلوم (جلد 10) — Page 228
۲۲۸ سائن کمیشن اور پنجاب کو نسل شائی لاکس کے قبضہ میں نہ جا سکے- میرے نزدیک اوپر کی اصلاح کے علاوہ مسلمان پارٹی کو اپنا وہپ سسٹم (WHIPSYSTEM) بھی مضبوط رکھنا چاہئے- پچھلے تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو کوئی لائق وہپ (WHIP) ہے اور نہ اس کا کام معین ہے اور نہ اسے کوئی خاص اختیار ہیں- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وقت پر مسلمان اپنی طاقت کو جمع نہیں کر سکتے اور پراگندہ ہونے کی وجہ سے نقصان اٹھا لیتے ہیں- موجودہ موقع پر اگر مضبوط وہپ ہوتا اور وہ حالات کا مطالعہ کرتا رہتا تو مسلمان پارٹی کو چار پانچ ووٹر اور مل سکتے تھے- لیکن کام ایسے بے ڈھنگے طور پر ہوا کہ کئی ممبروں کے ووٹ سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا کیونکہ وہ لاہور چھوڑ چکے تھے- ایسا ہی موقع ولایت میں پیش آتا تو ممکن نہ تھا کہ ممبر اپنی جگہ چھوڑ سکتے- اب ہمیں کیا کرنا چاہئے میرے نزدیک پارٹی کی اصلاح تو ہوتی رہے گی- ہمیں اب یہ سوچنا چاہئے کہ جو غلطی ہو چکی ہے اس کا کیا علاج کیا جائے- بعض لوگ اس کا علاج یہ بتاتے ہیں کہ مسلمان ممبر استعفیٰ دے دیں- اگر گورنمنٹ نے انہیں منتخب کیا ہوتا تو یہ تدبیر معقول کہی بھی جا سکتی تھی لیکن موجودہ حالات تو خود مسلمانوں نے پیدا کئے ہیں وہ استعفیٰ کس کے خلاف احتجاج کرنے کیلئے دیں- اور اگر یہ خیال ہے کہ ان کے استعفیٰ دینے سے مسلمانوں کی نمائندگی مضبوط ہو جائے گی تو پہلے اس کے متعلق سوچ لینا چاہئے کہ آیا ایسا ہوگا بھی یا نہیں کیونکہ اگر ان لوگوں کے استعفیٰ دینے سے کوئی مفید تبدیلی نہیں ہو سکتی تو استعفیٰ دینا فضول ہوگا بلکہ مضر- سوال یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کے استعفیٰ دینے پر مسلمانوں کو پھر ممبر منتخب کرنے کا موقع مل جائے گا- اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ہمیں تین سوالوں پر غور کر لینا چاہئے- اول یہ کہ کیا انتخاب ہو چکنے کے بعد گورنمنٹ نئے ممبروں کے انتخاب کی اجازت دے گی- دوم یہ کہ انتخاب کونسل سے تعلق رکھتا ہے اور کونسل کے اجلاس اب بند ہو چکے ہیں- وہ دوبارہ اسی وقت جمع ہوگی جب سائمن کمیشن (SIMONCOMMISSION) آچکا ہوگا- تو اس صورت میں مسلمانوں کے نمائندوں کو کون منتخب کرے گا- سوم یہ کہ انتخاب ممبران ساری کونسل سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ مسلمانوں سے- فرض کرو گورنمنٹ نئے انتخاب کی اجازت بھی دے دے- اور فرض کرو کہ وہ کونسل کا اجلاس بھی کر دے تو بھی یہ سوال باقی ہے کہ جب کہ