انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 209

۲۰۹ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلى على رسوله الكريم جامعہ احمدیہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب (فرموده ۲۰ مئی ۱۹۲۸ء) تشّہد و تعوذ اور تلاوت سورة فاتحہ کے بعد حضور نے فرمایا:۔آج کا دن شاید ہمارے لئے کوئی خصوصیت رکھتا ہے کہ اس دن بہت سی دعوتھی جمع ہو گئی ہیں۔میرا خیال تھا ہم اس جگہ اس لئے آرہے ہیں کہ دعا کر کے جامعہ احمدیہ کا افتتاح کریں۔لیکن سامنے کے موڑ سے مڑتے ہی معلوم ہو گیا کہ یہاں بھی نفسانی مجاہد ہ ہمارا انتظار کر رہا ہے اور ابھی یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا ، شام کو پھر ایک دعوت میں مدعو ہیں۔اور ممکن ہے شام سے پہلے پہلے کوئی اور دعوت بھی انتظار کر رہی ہو۔اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ون ہمارے لئے اکل و شرب کا دن بن گیا ہے۔اور رسول کریم ﷺ نے عید کے دن کی یہی تعریف فرمائی ہے۔سو جس طرح خدا تعالی نے اس دن میں بغیر اس کے کہ ہم ارادہ اور نیت کر کے پہلے سے انتظام کرتے خود اپنی طرف سے ہی ایسے سامان کر دئے ہیں کہ اس دن کو ہمارے لئے عید کی طرح بنا دیا ہے۔اسی طرح ہم اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ واقعہ میں ہمارے لئے اسے عید بنا دے۔جب خدا تعالی نے اس دن میں عید سے ظاہری مشابہت پیدا کر دی ہے اور بغیر کسی انسانی ارادہ کے دل کے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں، تو یہ اس کی شان کے خلاف ہے کہ کوئی ایسی چیز ہے جو کام کی نہ ہو۔ہم اس کی شان کو مد نظر رکھ کر یہی امید رکھتے اور اس سے یہی التجا کرتے ہیں کہ اس ظاہری عید کو حقیقی عید یا وے۔اس مرور میں روح پھونک دے، اس جسم میں سانس ڈال دے ، اس بے بس مجسمہ کو چلتی پھرتی چیز بنادے کہ جس طرح ظاہری