انوارالعلوم (جلد 10) — Page 196
۱۹۶ اور اسلام پہلے دلائل کے ذریعہ سے دنیا پر غالب ہوگا- اور آخر تبلیغ کے ذریعہ سے طاقتور قومیں اس میں شامل ہو کر اس کی سیاسی طاقت کو بڑھا دیں گی- اس طرح آپ نے ٹوٹے ہوئے دلوں کو باندھا- جھکی ہوئی کمر کو سہارا دیا- بیٹھے ہوئے حوصلوں کو کھڑا کیا- اور مردہ امنگوں کو زندہ کیا- اور اس میں کیا شک ہے کہ جب امید اور زبردست امید پیدا ہو جائے تو سب کچھ کرا لیتی ہے- امید ہی سے قربانی و ایثار پیدا ہوتے ہیں- اور چونکہ مسلمانوں میں امید نہ تھی، قربانی بھی نہ رہی تھی- احمدیوں میں امید ہے، اس لئے قربانی بھی ہے- پھر قربانی بھی مرنے مارنے کی قربانی نہیں بلکہ سامان بقا کو پورا کرنے والی قربانی- جس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ہر ذرہ کو اس طرح ملایا جائے کہ اس سے ترقی کے سامان پیدا ہوں- امن عامہ کا قیام چودھواں کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کیا کہ آپ نے امن عامہ کو قائم کیا ہے اس غرض کیلئے آپ نے چند تدبیریں کی ہیں جن پر عمل کرنے سے دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے اور ہوگا- (۱)دنیا میں سب سے بڑی وجہ فساد کی یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے بزرگوں کو برابھلا کہتے ہیں اور دوسرے مذاہب کی خوبیوں سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں- حالانکہ عقل سلیم اسے تسلیم نہیں کر سکتی کہ خدا تعالیٰ جو رب العالمین ہے وہ کسی ایک قوم کو ہدایت کیلئے چن لے گا اور باقی سب کو چھوڑ دے گا- مگر عقل سلیم خواہ کچھ کہے دنیا میں یہ خیال پھیلا ہوا تھا اور اس کی وجہ سے سخت فسادات پیدا ہو رہے تھے- حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس صداقت کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور بڑے زور سے دعویٰ کیا کہ ہر قوم میں نبی گذرے ہیں- اور اس طرح ایک عظیم الشان وجہ فساد کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ سے پہلے بھی بعض بزرگوں نے بعض قوموں کے بزرگوں کو یا بعض قوموں نے بعض غیر قومی بزرگوں کو خدا رسیدہ تسلیم کیا ہوا تھا جیسے مثلاً ایک دہلوی بزرگ نے فرمایا کہ کرشن نبی تھے- اسی طرح توریت میں ایوب علیہ السلام کو نبی کر کے پیش کیا گیا ہے- حالانکہ وہ بنی اسرائیل میں سے نہ تھے- مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مسئلہ کو اور رنگ میں پیش کیا ہے- آپ کے دعویٰ سے پہلے مختلف اقوام کے ہدایت کے متعلق مختلف خیالات تھے-(۱)بعض کا خیال تھا کہ باقی سب لوگ جہنمی ہیں صرف ان کی قوم نجات یافتہ ہے- یہود اور زردشتی اس خیال کے تھے (۲)بعض کا خیال تھا کہ ان کے بانی کی آمد سے پہلے تو دنیا کی ہدایت کا دروازہ بند تھا مگر اس