انوارالعلوم (جلد 10) — Page 179
۱۷۹ گی نہ ہوئی ہے، نہ کوئی تبدیلی کر سکتا ہے کیونکہ اس کی حفاظت کا وعدہ ہے- ایسے کلام سے بڑھ کر کونسی بات معتبر ہو سکتی ہے- اس کے بعد سنت ہے کہ صرف قول سے اس کا تعلق نہیں بلکہ عمل سے ہے اور عمل بھی وہ جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود کیا کرتے تھے اور متواتر کرتے تھے- ہزاروں لوگ اسے دیکھتے تھے اور اس کی نقل کرتے تھے- یہ نہیں کہ ایک یا دو یا تین کی گواہی ہو کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کہتے سنا بلکہ ہزاروں آدمیوں کا عمل کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں کرتے دیکھ کر آپ کی اتباع میں ایسا کام شروع کیا- اس سنت میں غلطی کا احتمال بہت ہی کم رہ جاتا ہے- اور یہ حدیث سے جو چند افراد کی شہادت ہوتی ہے بہت افضل ہے- اس کے بعد آپ نے حدیث کو رکھا- لیکن ان کے متعلق یہ شرط لگائی کہ صرف راویوں کی پرکھ ان کی صداقت کی علامت نہیں بلکہ ان کا قرآنکریم، سنت اور قانون قدرت کے مطابق ہونا ضروری ہے- حدیث کے بعد تفقہ فیالدین کا مرتبہ رکھا کہ عقل کو استعمال کر کے جو مسائل میں ترقی ہوتی ہے اس کے لئے بھی رستہ کھلا رہے- پھر پانچویں بنیاد فقہ کی آپ نے مختلف حالات اور مزاجوں کو مقرر کیا اور اسے شریعت اسلامیہ کا ضروری جزو قرار دیا- اس اصل سے بہت سے مختلف فیہ مسائل حل ہو گئے- مثلاً آمین کہنے پر جھگڑے ہوتے تھے- آپ نے فرمایا- جس کا دل اونچی آمین کہنے کو چاہے وہ اونچی کہے جس کا دل اونچی کہنا نہ چاہے نہ کہے- جب یہ دونوں باتیں ثابت ہیں تو ان پر جھگڑا فضول ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مزاج کے لوگوں کو مدنظر رکھ کر دونوں طرح عمل کیا ہے پس ہر اک شخص اپنے مزاج کے مطابق عمل کر سکتا ہے- دوسرے کے فعل سے سروکار نہیں رکھنا چاہئے- اسی طرح فرمایا کہ جس کا دل چاہے سینہ کے اوپر ہاتھ باندھے جس کا دل چاہے ناف کے نیچے باندھے- انگلی اٹھائے یا نہ اٹھانے کے متعلق رفع یدین کرنے یا نہ کرنے کے متعلق بھی یہی فرمایا کہ دونوں طرح جائز ہے- اسی طرح بہت سے جھگڑوں کو جو کسی شرعی اختلاف کی وجہ سے نہ تھے بلکہ دو جائز باتوں پر جھگڑنے کے سبب سے تھے اور شریعت کی اس حکمت کو نہ سمجھنے کے سبب سے تھے کہ اس میں مختلف طبائع کا لحاظ رکھ کر مختلف صورتوں کو بھی جائز رکھا جاتا ہے، آپ نے مٹادیا- عورتوں کے حقوق کا قیام گیارھواں کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کیا کہ عورتوں کے وہ حقوق قائم کئے جو آپ کی آمد سے پہلے