انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 126

۱۲۶ کیا- خدا تعالیٰ کے متعلق یہ غلط خیالات پھیلے ہوئے تھے- (۱)شرک جلی اور خفی میں لوگ مبتلا تھے(۲)بعض لوگ اللہ تعالیٰٰ کی نسبت یہ یقین رکھتے تھے کہ اگر خدا ہے تو وہ علت العلل ہے- وہ اس کی قوت ارادی کے منکر تھے اور سمجھتے تھے کہ جس طرح مشین چلتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ سے دنیا کے کام ظاہر ہو رہے ہیں- ہزاروں علتوں میں سے وہ ایک علت ہے گو آخری اور سب سے بڑی- مگر بہرحال ایک اضطرار کے رنگ میں اس کے سب افعال صادر ہوتے ہیں- مسلمان کہلانے والوں میں سے بھی فلسفہ کے دلدادہ اس خیال سے متاثر ہو چکے تھے (۳)بعض لوگ خیال کر رہے تھے کہ دنیا آپ ہی آپ بنی ہے اور قدیم ہے- خدا تعالیٰ کا جوڑنے جاڑنے سے زیادہ دنیا سے کوئی تعلق نہیں- بعض مسلمان بھی اس غلطی میں مبتلا تھے (۴)بعض لوگ خدا تعالیٰ کے رحم کا انکار کرنے لگ گئے تھے اور یہ کہتے تھے کہ خدا میں رحم کی صفت نہیں پائی جاتی- کیونکہ وہ عدل کے خلاف ہے(۵)بعض لوگ خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایسا ناقص اندازہ کرنے لگ گئے تھے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کو چند ہزار سال میں محدود کر دیا تھا اور خیال کرتے تھے کہ بس خدا تعالیٰ کی صفات انہی چند ہزار سال میں ظاہر ہوئی ہیں اور اگر اس دور کو لمبا بھی کرتے تھے تو اتنا کہ گو اس دنیا کی عمر لاکھوں سال کی مانتے تھے مگر خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور اسی دور کے ساتھ محدود کرتیتھے- (۶)بعض لوگ خدا کی قدرت کو غلط طریق سے ثابت کرتے ہوئے یہ کہتے کہ خدا جھوٹ بھی بول سکتا ہے، چوری بھی کر سکتا ہے- اگر نہیں کر سکتا تو معلوم ہوا کہ اس میں قدرت نہیں ہے- (۷)بعض لوگ خدا تعالیٰ کو قانون قضاؤ قدر جاری کرنے کے بعد بالکل بیکار سمجھتے اور اس وجہ سے کہتے تھے کہ دعا کرنا فضول ہے- جب خدا کا قانون جاری ہو گیا کہ فلاں بات اس طرح ہو تو دعا کرنا بے فائدہ ہے- دعا سے اس قانون میں روکاوٹ نہیں پیدا ہو سکتی- (۸) خدا تعالیٰ کی صفات کے اجراء کا مسئلہ بالکل لاینحل سمجھا جانے لگا تھا لوگ خدا تعالیٰ کی سب صفات کے ایک ہی وقت میں جاری ہونے کا علم نہ رکھتے تھے اور سمجھ ہی نہ سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ جو شدید العقاب ہے وہ اس صفت کو رکھتے ہوئے ایک ہی وقت میں وھاب کس طرح ہو سکتا ہے وہ حیران تھے کہ کیا ایک انسان کے لئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ بڑا سخی ہے اور بڑا بخیل بھی ہے- اگر نہیں تو خدا کے لئے کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک ہی