انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 122

۱۲۲ ہے- لارڈریڈنگ۷؎ جو وائسرائے ہند رہ چکے ہیں، پہلے مزدور تھے جو ترقی کرتے کرتے اس حد تک پہنچ گئے- مگر یہ اتفاقی باتیں ہوتی ہیں- صداقت کی علامت وہ ترقی ہوتی ہے جس کا پہلے سے دعویٰ کیا جائے اور پھر وہ دعویٰ پورا ہو جائے- پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور الہام ہے اور یہ یہ کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے-: ’’میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘- ۸؎ اب دیکھ لو کہ دنیا میں کئی ایسی جگہیں ہیں جہاں اصل باشندوں میں سے دوسرے فرقوں کے مسلمان نہیں مگر احمدی ہیں- اس سے بڑھ کر دنیا کے کناروں تک آپ کی تبلیغ کے پہنچنے کا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے- اسی طرح آپ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میری مخالفت مٹتی جائے گی اور قبولیت پھیلتی جائے گی- جب آپ نے اپنا دعویٰ دنیا کے سامنے پیش کیا تو خطرناک طور پر آپ کی مخالفت ہوئی مگر اس وقت آپ نے فرمایا- ؎ وہ گھڑی آتی ہے جب عیسیٰ پکاریں گے مجھے اب تو تھوڑے رہ گئے دجال کہلانے کے دن اس وقت سوائے دجال کے آپ کا کوئی نام نہ رکھا جاتا تھا- لیکن آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کا کام اتنا تو نمایاں ہو چکا ہے کہ جو لوگ ابھی آپ کی جماعت میں داخل نہیں ہوئے ان کا بھی بہت بڑا حصہ کہتا ہے کہ آپ کو دجال نہیں کہنا چاہئے آپ نے بھی اچھا کام کیا ہے- اسی طرح قادیان کی ترقی بھی بہت بڑا نشان ہے آخری جلسہ میں جو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہوا، اس میں سات سو آدمی کھانا کھانے والے تھے- اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر کے لئے نکلے تو اس لئے واپس چلے گئے کہ لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے گرد اڑتی ہے- اب دیکھو اگر سات ہزار بھی جلسہ پر آئیں تو شور پڑ جائے کہ کیا ہو گیا ہے کیوں اتنے تھوڑے لوگ آئے ہیں- ہر سال آنے والوں میں زیادتی ہوتی ہے- پچھلے سال کی ستائیں تاریخ کی حاضری کی نسبت اس سال کی حاضری میں نو سو کی زیادتی ہے- گویا جتنے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں آخری