انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 121

۱۲۱ اور کئی اقسام کے حملے کریں گے- جن کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کو بھی اس قسم کا جواب دینا پڑے گا- چنانچہ مخالفین نے آپ پر قسم قسم کے حملے کئے اور یہ حملے اس حد تک پہنچ گئے کہ ایک طرف گورنمنٹ آپ کو گرفتار کرنے کیلئے تلی بیٹھی تھی دوسری طرف پیر گدی، نشین اور مولوی آپ کی مخالفت پر آمادہ اور آپ کی جان کے درپے تھے- عام مسلمانوں نے بھی کوئی کمی نہ کی اور آپ کے خلاف منصوبوں پر منصوبے کئے- ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں اور باقی سب قوموں نے بھی ناخنوں تک زور لگایا کہ آپ کو تباہ کر دیں، آپ کو قتل کرنے کی کوششیں کی گئیں، آپ پر اتہام لگائے گئے، آپ کی عزت و آبرو، آپ کی دیانت اور امانت، آپ کے تقویٰ و طہارت پر حملے کئے گئے مگر سب ناکام رہے اور آپ کی عزت بڑھتی گئی- چوتھی پیشگوئی یہ تھی کہ ان حملوں کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے حملے ہونگے چنانچہ ایسا ہی ہوا- جس نے جس رنگ میں آپ پر حملہ کیا تھا اسی رنگ میں وہ پکڑا گیا- پانچویں پیشگوئی جو آخری بات تھی کہ خدا تعالیٰ آپ کی صداقت ظاہر کر دے گا- اس کے ثبوت میں یہ جلسہ موجود ہے اس وقت تمام دنیا میں آپ کے ماننے والے موجود ہیں- امریکہ میں موجود ہیں- یورپ میں موجود ہیں- افریقہ میں موجود ہیں- ایشیاء کے ہر علاقہ میں موجود ہیں- کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ دنیا کے چالیس کروڑ مسلمان کہلانے والوں کے ہاتھوں اتنے امریکہ کے باشندے مسلمان نہیں ہوئے جتنے احمدیوں کی قلیل ترین جماعت کی کوششوں سے ہوئے ہیں- اس وقت ایک ایسے امریکن مسلمان کے مقابلہ میں سو احمدی امریکن ہیں- اسی طرح ہالینڈ میں جہاں دوسرے مسلمانوں کا بنایا ہوا ایک بھی مسلمان نہیں، احمدی مسلمان موجود ہیں- اور کئی ایسے ممالک ہیں جہاں احمدی باشندوں کی تعداد اس ملک کے مسلمانوں سے زیادہ ہے یہ کتنا بڑا نشان ہے- اور زور آور حملوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت ظاہر ہونے کا کتنا بڑا ثبوت ہے- ہندوستان میں ہی دیکھ لو- دوسروں کے مقابلہ میں جماعت احمدیہ کی کیسی کمزور حالت ہے مگر کتنی ترقی کر رہی ہے- کسی نے کہا ہے سوامی دیانند اور حسن بن صباح کے ماننے والوں نے بھی ترقی کی تھی- انہوں نے ترقی کی ہوگی مگر سوال یہ ہے کہ کیا کمزوری کی حالت میں انہوں نے دعویٰ بھی کیا تھا کہ ایسی ترقی ہوگی اور اس ترقی کے دعویٰ کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے شائع بھی کیا تھا- اتفاقی طور پر ترقی ہو جانا اور بات ہے اور دعویٰ کے بعد ترقی ہونا اور بات