انوارالعلوم (جلد 10) — Page 100
۱۰۰ چونکہ یہ سب مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے کاموں کے لئے چندہ ہے اس لئے اس کے طلب کرنے میں کوئی شرمندگی کی بات نہیں ہے۔اگر کسی کا گھر گر رہا ہو تو اسے بنانے کے لئے اس سے گارا اور اینٹیں لینی منع نہیں بلکہ اس پر احسان ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے ذوالقرنین سے دیوار بنانے کے لئے کہا گیا تو اس نے کہا کہ سامان وغیرہ لاؤ اور سامان لے کر دیوار تیار کر دی ۷؎ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے لکھا ہے ذوالقرنین سے مراد حضرت مسیح موعود کا زمانہ ہے اور یہ پیشگوئی ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہو گا۔۸؎ ایسا موقع پیش آئے گا کہ بالخيريد ان لوگوں کے لینے ضروری ہوں گے اور ان کے ذریعہ ان کی حفاظت کا سامان کرنا ہو گا۔پس اس وقت مسلمانوں کی حفاظت کے لئے سامان مہیا کرنے کے لئے ان سے چندہ لینا ضروری ہے۔اگر سو آدمی ایسے کھڑے ہو جائیں۔جو ایک ہزار سے لے کر پانچ ہزار تک چندہ جمع کریں تو بہت کچھ کام ہو سکتا ہے۔(اس موقع پر احباب نے اپنے نام پیش کرنے شروع کئے کہ وہ ایک سَو سے لے کر ہزار تک یا ایک ہزار سے پانچ ہزار تک ریز رو فنڈ میں اس سال جمع کر کے داخل کریں گے۔اس وجہ سے کچھ دیر کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تقریر کا سلسلہ بند کر دیا اور پھر فرمایا) اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ اخلاص کا نمونہ ہے جس کا پورا ثبوت تو عمل سے ملے گا مگر نیت سے بھی اخلاص کا اظہار ہوتا ہے اور جب نیت سچے طور پر کی جاتی ہے تو خدا تعالی اس کے پورا کرنے کی بھی توفیق عطا کر دیتا ہے۔میں سمجھتا ہوں احباب کے لئے اس چندہ کا جمع کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہے ان کے سامنے طالب علموں کی مثال موجود ہے اگر ہمت کریں تو ۲۵لاکھ چھوڑ پچاس لاکھ بھی جمع کر سکتے ہیں۔اب چونکہ اس چندہ کے متعلق اتنا وقت لگ گیا ہے کہ اس کے فوائد بتانے کا موقع نہیں رہا اور ضرورت بھی معلوم نہیں ہوتی کیونکہ دوست اس کے فوائد سمجھ ہی گئے ہیں اسی لئے انہوں نے اس کے فراہم کرنے کے لئے نام لکھائے ہیں۔اس سال جو تحریکیں کی گئیں ان میں سے ایک کے متعلق آئندہ کے لئے بھی خاص طور پر خیال رکھنے کی ضرورت ہے اور وہ تحریک چُھوت چھات کی ہے۔اس کے متعلق میں نے عورتوں میں بھی بہت زور دیا ہے اور اب آپ لوگوں کے سامنے بھی اس کا ذکر کرتا ہوں۔یہ تحریک مسلمانوں کی اقتصادی ترقی کی جان ہے۔علاوہ ازیں مذہبی طور پر بھی یہ بڑا اثر رکھتی ہے ملکانوں میں