انوارالعلوم (جلد 10) — Page 71
۷۱ آئیں گی اور پھر خدا تعالی نے ان کو ایمان لانے کی بھی توفیق بخشی۔بڑے لوگوں میں یہ بات طبعی حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ اپنے سے چھوٹے کی بات ماننے میں ہتک سمجھتے ہیں کئی لوگوں کو اسی لئے ٹھوکر لگ گئی کہ وہ سمجھتے تھے۔ہم عمر میں اور علم میں حضرت مرزا صاحب سے بڑے ہیں پھر ان کی بیعت کس طرح کریں۔میرے نزدیک تائی صاحبہ کے لئے یہ بطور سزا کے تھا کہ انھوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو اس لئے نہ مانا کہ آپ ان کے چھوٹے دیور تھے۔خدا تعالی نے کہا اچھا ان کی بیعت نہ کرو اس چھوٹے دیور کے بیٹے کی بیعت کرائیں گے۔اس وقت ان کے متعلق یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ "تائی آئی ‘‘ ۴؎ اس میں کئی باتیں بتائی گئی تھیں۔(۱) ایک یہ کہ وہ ایمان لائیں گی (۲) میرے زمانہ میں ایمان لائیں گی کیونکہ میری تائی تھیں اور ان کے آنے سے مراد ہدایت پانا تھاور نہ یوں تو وہ گھر میں ہی رہتی تھیں (۳) یہ کہ وہ بہت لمبی عمر پائیں گی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو ان کے متعلق الہام ہوا اس وقت ان کی عمر۸۰ سال کے قریب تھی مگر اس وقت یہ بتایا گیا کہ دوسرے خلیفہ کے وقت جس کی وہ تائی ہوں گی بیعت کریں گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔میری بیعت کر کے وہ سلسلہ میں داخل ہوگئیں اور ایک سو تین سال کی عمر تک پہنچیں۔ان حالات میں یہ ایک خاص نشان ہے کہ ایسی سخت زمین میں بھی خدا تعالی نے ہدایت کابیچ ڈالا۔پھر ان کو ایسا اخلاص دیا کہ انہوں نے وصیت کی۔مجھے یاد ہے وہ پرانی روایات کی اس قدر پایند تھیں کہ جب کبھی گھر کی عورتیں باہر جاتیں تو سخت ناراض ہوتیں اور میں یہ بھی کوئی شرافت ہے ہمارا تو اس گھر میں ڈولا آیا تھا اب جنازہ ہی نکلے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی وفات پر اس لئے ناراض ہو گئیں کہ آپ کو باپ دادا کا قبرستان چھوڑ کر و دوسری جگہ کیوں دفن کیا گیا ہے مگر جب احمدی ہوئیں تو خود اسی قبرستان میں دفن ہونے کے لئے وصیت کی ہیں وہ بھی ایک نشان تھیں۔اسی عرصہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی نواسی ہاجرہ فوت ہوئی ہیں۔حضرت خلیفہ اول کو ان سے خام اُنس تھا۔میں نے دیکھا اپنے بچوں کی طرح رکھتے اور جب اپنے بچوں کے لئے کپڑے بناتے تو ان کے لئے بھی بناتے۔مرحومہ میں بھی بہت اخلاص تھا اور سلسلہ کی خدمت کا شوق تھا۔لجنہ کی محنت کرنے والی کار کن تھیں۔چونکہ جوانی میں ہی فوت ہو گئی ہیں اس وجہ سے ان کی وفات کا اور بھی افسوس ہے۔ان باتوں کا اظہار میں نے اس لئے کیا ہے تا جماعت میں یہ احساس پیدا ہو کہ جو وجود سلسلہ