انوارالعلوم (جلد 10) — Page 66
۶۶ کی نسبت زیادہ جگہ بنائی جاتی تھی لیکن اس سال جلسہ گاہ گزشتہ سال کی جلسہ گاہ جتنی ہی بنائی گئی بلکہ نیچے کی جگہ ایک فٹ کم کر کے اوپر ایک گیلری زیادہ بنائی گئی۔میرے نزدیک منتظمین نے یہ سخت غلطی کی ہے جلسہ کے بعد اس کے متعلق میں ان سے جواب طلب کروں گا اور آئندہ کے لئے جلسہ گاہ کی تعمیر نظارت متعلقہ کے فرائض میں سے قرار دے دوں گا۔یہ کہیں نہیں ہوتا کہ جنگکے لئے جنگ کا میدان کرنے والے سپاہی خودہی منتخب کیا کریں بلکہ یہ کام ذمہ دار افسروں کا ہو تا ہے کہ وہ جنگ گاہ مقرر کریں مگر یہاں جلسہ گاہ جو ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے اس کی تیاری اور اس کا اندازہ ایک شخص پر چھوڑ دیا گیا کہ جتنی جلسہ گاہ چاہے وہ بنائے اور جس طرح چاہے بنائے۔آج تک کوئی گورنمنٹ ایسی نہیں سنی گئی جس نے یہ قرار دیا ہو کہ لڑنے والی سپاہ اپنے لئے راشن بھی خود جمع کرے اور میدان جنگ بھی وہی منتخب کرے بلکہ یہ کام دوسرے ذمہ دار افسروں کا ہوتا ہے۔بحیثیت خلیفہ یہ میرا کام نہیں کہ میں ایسی باتوں میں دخل دوں مگر باوجود اس کے جلسہ کے شروع ہونے سے پہلے مجھے جلسہ گاہ کے متعلق خیال پیدا ہوا کہ پوچھوں جلسہ گاہ کتنی بنائی گئی ہے مگر نظارت کو اس کے متعلق خیال بھی نہیں آیا کہ جلسہ گاہ کیسی بنی ہے کتنی جگہ میں بنی ہے۔باہر سے لوگ جلسہ کے موقع پر دین کے متعلق باتیں سننے کے لئے آتے ہیں اور ہم کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں لیکن اگر ان کے بیٹھنے کے لئے جگہ کاہی انتظام نہ کیا جائے تو پھر ان کو یہاں بلانے کی کیا ضرورت ہے۔اگر جلسہ گاہ بنانے کا کام ایک اوورسیئر کے سپرد کر دینا ہے تو پھر یہ اسی کی مرضی پر منحصر ہے کہ جتنی لمبی چوڑی چاہے بنائے تو میرے نزدیک جلسہ کے متعلق اعلان کر نا بھی اسی کے سپرد کر دینا چاہئے تاکہ وہ اس طرح اعلان کر دیا کرے کہ اس دفعہ اتنے اتنے فٹ جلسہ گاہ بنائی جائے گی اس لئے اتنے لوگ آئیں اس سے زیادہ نہ آئیں۔میں اس دفعہ جلسہ گاہ کے اس قدر تنگ بنائے جانے پر پھر افسوس کا اظہار کرتا ہوں اور دوستوں سے کہتا ہوں جس قدر تنگ ہو کر بیٹھ سکیں بیٹھیں تاکہ دوسرے دوستوں کو بھی داخل ہونے کے لئے کچھ نہ کچھ جگہ مل سکے۔میں اس سال بھی حسب عادت آج ان اُمور کے متعلق جو اس سال پیش آئے یا جو آئندہ سال کے پروگرام سے تعلق رکھتے ہیں کچھ بیان کروں گا اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کل حسب معمول خدا تعالی کی توفیق سے علمی مضمون بیان کروں گا۔قبل اس کے کہ میں آج کا مضمون شروع کروں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس سال میں جلسہ کے قریب مجھ پر انفلوئنزا کا حملہ ہوا اور میں ۸-