انوارالعلوم (جلد 10) — Page 55
انوار العلوم جلد 10 ۵۵ مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت اُٹھتے ہیں مگر پھر جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔ جب تک مستقل کوشش جاری نہ رہے گی اس وقت تک کامیابی نہ ہوگی۔ میں اپنے بھائیوں سے پوچھتا ہوں کہ وہ اپنے دلوں میں غور کریں کہ جن لوگوں سے انہوں نے دکانیں کھلوائی تھیں ان کا ہزاروں لاکھوں روپیہ خرچ کرا کے اب جو وہ ان کی مدد سے دریغ کر رہے ہیں اور ان کی دُکانوں کو چھوڑ کر دوسری دُکانوں پر جا رہے ہیں اس کا اثر قوم کے اخلاق پر کیا پڑے گا اور آئندہ نسلیں اس سے کیا سبق حاصل کریں گی۔ پس اگر حریت چاہتے ہو، اگر آزاد زندگی کی تڑپ رکھتے ہو ، اگر پھر ایک دفعہ دنیا میں عزت کی سانس لینا چاہتے ہو، تو خدارا ان بستیوں اور بے استقلالیوں کو چھوڑ دو۔ تعاون باہمی کی عادت ڈالو اور نقصان اٹھا کر بھی اپنے بھائی کا فائدہ کرو۔ تب اور صرف تب آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔ سائمن کمیشن نہیں بلکہ خود آپ کی ان تھک کوششیں اور بے نفس قربانیاں آپ کو کامیابی کے مقام پر کھڑا کر سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔ وَاخِرُ دَعُوْنَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان ۸-۱۲-۱۹۲۷ء ( الفضل ۱۶ دسمبر۱۹۲۷ء )