انوارالعلوم (جلد 10) — Page 41
۴۱ کے پریذیڈنٹ سرسائمن ہیں جو انگلستان کے ایک نہایت زیرک اور ہوشیار بیرسٹر ہیں۔یہ کمیشن دو سال تک رپورٹ کرے گا کہ آئندہ ہندوستان سے کیا معاملہ کیا جائے۔ہندوستان میں آکرمختلف لوگوں سے ان کے خیالات دریافت کرے گا۔گورنمنٹ کے بڑے حکام سے مشورہ کرے گا اور پھر جو اس کے ذہن میں آئے گا پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرے گا۔مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پچھلے چار سال میں ہوتا چلا آیا ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک نہایت نازک موقع ہے۔مسلمانوں کو یہ تجربہ اچھی طرح ہو چکا ہے کہ ہندو لوگوں میں بوجہ ایک لمبے عرصہ تک حکومت سے محروم رہنے کے وسعت حوصلہ بالکل نہیں رہی۔ان کی تعداد ملک میں تین چوتھائی ہے یعنی ایک مسلمان کے مقابل پر تین ہندو ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ اگر ہندوستان کو حکومت خود اختیاری ملے تو خواہ وہ مسلمانوں سے کتنی بھی رعایت کریں پھر بھی حکومت انہی کے ہاتھ میں رہے گی اور زیادہ فائدہ انہی کو پہنچے گا۔لیکن چونکہ ان میں وسعت حوصلہ نہیں ہے وہ اس قدر بھی مسلمانوں کو دینے کے روادار نہیں ہیں جس قدر کہ مسلمانوں کو بعض صوبوں میں ان کی تعداد کے روسے ملنا چاہئے۔یا جس قدر کہ بعض دوسرے صوبوں میں ان کی جائز نیابت کے لئے انہیں دیا جانا چاہئے۔پس ایک طرف تو مسلمانوں کو ان کی جائز نیابت سے محروم کرنے کے لئے ہندو لیڈروں نے یہ شور مچانا شروع کیا کہ کونسلوں کے ممبروں کے انتخاب کا موجودہ طریق بدل دینا چاہئے یعنی یہ نہ ہو کہ مسلمان ممبر کو مسلمان منتخب کریں اور ہندو ممبر کو ہندو بلکہ ہندو اور مسلمان مل کر ممبروں کو منتخب کیا کریں۔بظاہر تو یہ بات نہایت معقول ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جب ملک سے ناواجب تعصّب دور ہو جائے اور مختلف قومیں تعلیمی اور اقتصادی لحاظ سے قریباً ایک سی ہو جائیں تو ایسا ہی ہونا چاہئے لیکن اس وقت جس قدر بُغض دلوں میں بھرا ہوا ہے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ چونکہ ہندوؤں میں تعلیم اور دولت زیادہ ہے اور مسلمان تعلیم میں پیچھے ہیں اور عام طور پر ہندوؤں کے مقروض ہیں اور بد قسمتی سے مسلمانوں میں تفرقہ بھی زیادہ ہے انتخاب کے وقت ہندو لوگ لا ئق مسلمانوں کے مقابلہ میں ایسے نالائق مسلمانوں کو کھڑا کر دیا کریں گے جو کونسلوں میں جا کر ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں اور ہندو لوگ اپنے قرض داروں کو مجبور کر کے اپنے مطلب کے مسلمان امیدواروں کے حق میں رائے دلوائیں گے جیسا کہ ڈسٹرکٹ بورڈوں اور میونسپل کمیٹیوں کے انتخاب کے وقت ہوا کرتا ہے اور اس طرح گو نام کے مسلمان تو منتخب ہو جائیں گئے لیکن حقیقی طور پر مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے بہت ہی کم ممبر ہوں گے اور جو تھوڑی