انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 31

۳۱ قرضہ سے نجات اب میں یہ بتانا جاتا ہوں کہ اقتصادی حالت کی درستی کے لئے قرضہ سے نجات ضروری ہے۔جب تک یہ نہ ہو تو اقتصادی ترقی نہیں ہو سکتی۔میں اس قرضہ کے معاملہ میں کسی ہندو مسلم کی قید نہیں لگاتا کہ ہندوسے نہ لو بلکہ مسلمان سے۔نہیں میرا یہ ہرگز مطلب نہیں۔اس معاملے میں میرا اصول یہ ہے کہ کسی بنئے سے قرض نہ لو۔وہ بنیا ہندو ہو مسلمان ہو یا عیسائی ہویعنی فرد واحد سے نہ لو بلکہ اگر ایسی ہی ضرورت آپڑے اور قرض لینے کے بغیر چارہ نہ ہو تو بنک سے لو۔کیونکہ وہ حساب رکھنے پر مجبور ہے۔بنیا مجبور نہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ہمارے گاؤں کے ایک مزارعہ نے ایک بنئے سے تین روپے قرض لئے وہ تین سو دے چکا ہے اور ابھی اصل رقم باقی ہے۔بنیا کیا کرتا ہے۔وہ کچھ نہ کچھ بقایا رکھتا جاتا ہے اور وہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔میں تو سود کو جائز نہیں سمجھتا لیکن اضطراری اور مجبوری کی حالت میں اگر کسی کو سودی قرضہ لینا پڑتا ہے تو میں کہوں گا کہ ان کے لئے کوآپریٹو سوسائٹیز قائم کریں اور ان سے لین دین کریں۔میں ایک بار پھر اس امر کی صراحت کر دینا چاہتا ہوں کہ جب میں کہتا ہوں کہ کی بنئے سے سود نہ لو تو ہرگز کسی ایک یا دوسری قوم کا بنیا مراد نہیں میں تو شمائیلاک کی غلامی سے آزادی کی تلقین کرتا ہوں۔خواہ وہ ہندو ہو، مسلم ہو، سکھ ہو، انگریز ہو۔میں مسلمان بنیوں کو بھی جانتا ہوں۔فتنہ ارتداد میں ایک ملکانا گاؤں ایک مسلمان بنئے کے قبضہ میں تھا۔ہر چندا سے کہا گیا کہ ان لوگوں سے رعایت کرو مگر وہ راضی نہ ہوا۔شائیلاک کی غلامی سے نجات کا ایک ذریعہ کو آپریٹو سوسائٹیاں ہیں۔سول میں ایک مضمون چھپا تھا کہ ایک شخص کو ساٹھ روپیہ کی بجائے تین سو دینا پڑا۔پس میں مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ کسی فرد واحد سے قرضہ نہ لو۔دوسری نصیحت یہ کروں گا کہ کفایت شعاری سے کام لیں۔اپنی آمدنی سے کچھ نہ کچھ بچا کر رکھیں۔کون جانتا ہے کل کیا ہو گا کوئی بچہ بیمار ہو جائے گا یا کوئی اور ضرورت آ پڑے گی۔یہ کہنا کہ گزارہ نہیں ہو سکتا صحیح نہیں ہے۔ایک شخص جس کو آج پندره روپیہ ملتے ہیں تو اس میں گزارہ کرتا ہے۔پھر اگر اس کی ترقی ہو جاوے تو کیوں وہ انہیں پندرہ میں گزارہ نہیں کرتا۔کچھ نہ کچھ پس انداز کرنا چاہئے۔اصلاح رسوم میں دیکھتا ہوں کہ بہت سا روپیہ فضول رسوم میں ضائع ہوتا ہے۔ان تمام رسومات کو ترک کردو۔مجد رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی بعثت میں خدا