انوارالعلوم (جلد 10) — Page 618
۶۱۸ بالکل ممکن ہے کہ اگر وہ شخص جس سے ہمیں اختلاف ہے، حد سے تجاوز نہیں کر جاتا تو اپنی اصلاح کی طرف مائل ہو جائے اور ہماری خرابی کا موجب نہ بنے بلکہ ہمارا دست و بازو بن کر ہماری تقویت کا باعث ہو- ایک شبہ کا ازالہ میں اس مضمون کے ختم کرنے سے پہلے اس شبہ کا ازالہ کر دینا چاہتا ہوں کہ جب میری اور جماعت کی رائے زیر بحث مسئلہ میں مسلمانوں کی کثرت رائے کے مطابق تھی تو کیوں چودھری ظفراللہ خان صاحب نے اس کے خلاف رائے دی- سو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ چودھری صاحب کو نہ میں نے کوئی ہدایت دی اور نہ دینی مناسب تھی- کیونکہ وہ میری طرف سے یا جماعت کی طرف سے نمائندہ ہو کر کمیٹی میں نہ گئے تھے- ہر ایک احمدی اگر اسے سچے طور پر مجھ سے اختلاف ہو، ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے مجھ سے اختلاف رکھ سکتا ہے- ہاں اگر اختلاف ایسا ہوتا کہ جس پر عمل کرنا یا جس کا ظاہر کرنا تفرقہ، تشتت، یا تباہی کا موجب ہوتا تو میرا حق تھا کہ میں قبل از وقت معلوم ہونے پر اس کے اظہار سے انہیں روک دیتا اور اگر وہ اخلاقاً اپنی موجودہ پوزیشن میں اس کے اظہار سے باز نہ رہ سکتے تو ان کا فرض ہوتا کہ وہ اس عہدہ سے استعفاء دے دیتے اور میں کامل یقین رکھتا ہوں کہ اگر ایسا موقع ہوتا تو چودھری صاحب ایسا ہی کرتے- مگر چونکہ یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوا، اس لئے ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے- خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ (الفضل ۳۰- اگست ۱۹۲۹ء)